کراچی کا کون سا میر کرپشن سے دور رہا ؟

پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے ‘ کراچی کو فوری طور پر وفاق کے زیر انتظام کر دینا چاہیے

کراچی کا کون سا میر کرپشن سے دور رہا ؟

تحریر : محمد توصیف حنیف۔

مجھے اپنی صحافتی ذمہ داریوں کے دوران کافی سالوں تک کراچی شہری حکومت ‘ بلدیاتی اور انتظامی محکموں کے امور کا براہ راست اور گہرائی سے جائزہ لینے کا موقع ملا۔
چند دن پہلے میری بات چیت میئر کراچی کے سابق سیکریٹری انصار صاحب سے ہوئی ‘جو کہ کہ چند ماہ قبل ریٹائر ہوئے ہیں۔
کیونکہ وہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے کافی انتظامی سربراہوں کے ساتھ سیکرٹری کے طور پر خدمت انجام دیتے رہے ہیں اس لئے ان کو براہ راست بہت سے سربستہ راز معلوم ہیں۔ان سے میں نے دریافت کیا کہ ان کے خیال میں کونسا میر ر یا ایڈمنسٹریٹر کراچی ‘ کرپشن سے دور رہا ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ سابق میر کراچی وسیم اختر نے میر شپ کے عہدے پر رہتے ہوئے دل کھول کر کرپشن کی۔واضح رہے کہ انصار صاحب وسیم اختر کی میر شپ کےدوران کئی سالوں تک انکے سیکرٹری رہے ہیں ۔

البتہ انہوں نے افتخار شالوانی کو ایک بہتر ایڈمنسٹریٹر کراچی قرار دیا ۔
انہوں نے سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی افتخار شالوانی ی کے ساتھ بھی بطور سیکرٹری کام کیا ہے۔
انصار صاحب کے مطابق افتخار شالوانی دیانتداری اور میرٹ کے اصولوں پر کام کرتے رہیں ہیں۔اور وہ ناجائز کام کیے لئے کسی کا دباؤ یا سفارش برداشت نہیں کرتے تھے۔
موجودہ ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ و ہاب کے حوالے سے ان کی رائے منفی ہے۔
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور شہری حکومت کے سابق ترجمان بشیر احمد سدوزئی سے بھی گزشتہ دنوں میں نے بات چیت کی ۔
محترم بشیر سدوزئی نے بہت طویل عرصہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور شہری حکومت میں سینئر پوسٹوں پر خدمات انجام دی ہیں ۔
وہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے کیء سربراہوں کے ساتھ بطور ترجمان منسلک رہے ہیں۔
انہوں نے میرے استفسار پر بتایا کے کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جدید تاریخ میں میں سب سے بہتر میر عبدالستار افغانی رہے ہیں۔جو کہ کرپشن سے دور رہے ہیں ۔

اسی طرح انہوں نے مزید بتایا کہ کہ نعمت اللہ خان بھی کراچی شہری حکومت کے بہترین سربراہ تھے جو کہ کرپشن سے انتہائی دور رہتے تھے ۔اور انہوں نے نے کراچی کی ترقی و تعمیر کے لئے بے انتہا محنت اور لگن سے کام لیا تھا ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فاروق ستار نے بھی اپنی میر شپ کے دوران انتہائی لگن سے کراچی کی خدمت کی ہے۔اور فاروق ستار صاحب میں انتہائی بہترین صلاحیتیں موجود ہیں ۔ جن کو بروئے کار لاتے ہو ہے انہوں نے نے اہل کراچی کے لیے بہتر کام کرنے کی کوشش کی تھی ۔
کراچی شہری حکومت کے سابق ناظم مصطفیٰ کمال کو بھی انہوں نے بہتر انتظامی سربراہ قرار دیا ۔
انہوں نے مصطفی کمال کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی ٹیم میں مزید بہتر و متحرک آیسے لوگوں کو شامل کریں جن کی جڑیں عوام میں استوار ہو ۔اور وہ مقامی مسائل پر زیادہ توجہ دیں۔تاکہ ان کی جڑیں مقامی سطح پر اور زیادہ عوام میں مضبوط ہو سکیں ۔

میرے خیال میں میں حکومت سندھ نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کےمالی و انتظامی وسائل پر جس طرح ظالمانہ قبضہ کیا ہوا ہے اس کے ہوتے ہوئے کراچی کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کراچی کے مسائل حل نہیں کر سکتی۔ کراچی میں احساس محرومی لاوے کی صورت اختیار کر چکا ہے ۔

کراچی کے شہری’ کراچی کو عارضی طور پر وفاق کے زیر انتظام کر دینے کا عمل بہتر سمجھتے ہیں۔
تا کہ کراچی میں مکمل بااختیار شہری حکومتوں کا قیام عمل میں لایا جاسکے ۔جو کہ جمہوری تقاضوں کے مطابق انتظامیہ و مالی طور پر بااختیار ہو۔شہر کے تمام انتظامی اور ہر طرح کے محکمے و ادارے مقامی حکومتوں کے زیر انتظام دے دینا چاہیے جیسا کہ دنیا کے تمام جمہوری ممالک میں مروجہ اصول ہے ۔

میری رائے میں کراچی کے اندر اتنی صلاحیتیں ہیں کہ اگر اس کے وسائل کو حکومت سندھ سندھ کی لوٹ مار سے بچا لیا جائے آئے تو یہ پاکستان کو دبئی سے بھی آگے لے جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں