سگریٹ نوشی مکمل طور پر چھوڑنی ضروری ہے

سگریٹ نوشی مکمل طور پر چھوڑ دینا صحت کے لیئے ضروری ہے

کراچی فریئر روڈ
123karachi.com
اچھی یا بری عادات انسان کی اخلاقی حالت کا پتہ دیتی ہیں تاہم اب سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں ہماری عادات کے ہماری صحت اور زندگی کی
طوالت پر پڑنے والے ایسے اثرات کاانکشاف کر دیا ہے کہ سنتے ہی لوگ اپنی بری عادات ترک کر دیں گے۔ میل آن لائن کے مطابق 4لاکھ 80ہزار لوگوں پر کی جانے والی اس تحقیق کے نتائج میں لیسیسٹر یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ جو لوگ اچھی عادات کے مالک ہوتے ہیں ان کی زندگی بری عادات کے حامل لوگوں کی نسبت 8سال طویل ہوتی ہے اور ان کی صحت بھی ان کی نسبت کئی گنا زیادہ بہتر رہتی ہے۔

باقاعدگی سے ورزش کرن
سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ”صرف سگریٹ نوشی سے گریز کرنا اور باقاعدگی سے ورزش کرنا ہی دو ایسی عادات ہیں جو انسانی زندگی کی طوالت اور صحت مندی پر جادوئی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر یوگنی چداسما کا کہان تھا کہ ”سگریٹ نوشی نہ کرنے اور ورزش باقاعدگی سے کرنے والے لوگ دوسروں کی نسبت زیادہ طویل اور صحت مند زندگی گزارتے ہیں خواہ انہیں کوئی دائمی بیماری ہی کیوں نہ لاحق ہو۔سگریٹ نوشی کرنا اور ورزش نہ کرنا انسان کی ذہنی و جسمانی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتا ہے اور ایسے لوگ زندگی میں کئی طرح کے عارضوں میں مبتلا رہتے ہیں اور ان کی عمر بھی کم ہوتی ہے۔“

دل کا دورہ اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ
ایک نئی تحقیق کے مطابق سگریٹ نوش افراد کو دل کا دورہ اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ کے لیے سگریٹ نوشی کم کرنے کے بجائے مکمل طور پر چھوڑنی ہوگی۔برطانوی میڈیکل جریدے (بی ایم جے) کی جانب سے ایک بڑے پیمانے پر کی گئی تحقیق کے مطابق دن میں صرف ایک سگریٹ پینے والے افراد میں سگریٹ نہ پینے والوں کے مقابلے میں دل کی بیماریوں کا 50 فیصد زیادہ امکان ہوتا ہے اور 30 فیصد امکان فالج کا ہوتا ہے۔سگریٹ پینے والوں کے لیے کینسر کے بجائے دل کے امراض سب سے زیادہ جان لیوا ثابت ہوتے ہیں اور 48 فیصد اموات کا سبب بنتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق برطانیہ میں سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن اُن افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو دن میں ایک سے پانچ سگریٹ پیتے ہیں۔بی ایم جے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ ادھیڑ عمر کے 100 افراد پر کی گئی تحقیق کے مطابق دن میں بیس سگریٹ پینے والوں کو سات دل کے دورے یا فالج کا حملہ ہو سکتا ہے۔

لیکن اگر وہ اپنی سگریٹ نوشی کی تعداد کم کر کے دن میں صرف ایک سگریٹ نوش کریں تب بھی ان کو تین دل کے دورے پڑنے کا خطرہ ہوگا۔محققین کے مطابق دن میں ایک سگریٹ پینے والوں میں دل کی شریان سے متعلق امراض ہونے کے 48 فیصد زیادہ امکان ہوتے ہیں جبکہ سگریٹ نہ پینے والوں کے مقابلے میں ایک سگریٹ پینے والوں میں 25 فیصد پر فالج کا حملہ ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔

تحقیق کے سربراہ، یونی ورسٹی کالج آف لندن کے پروفیسر ایلن ہیک شاہ نےبتایا کہ کئی ممالک میں یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ سگریٹ نوشی کم کرنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے بہتری آئی گی اور یہ کینسر کے معاملے میں درست ہے لیکن دیگر بیماریوں کے حوالے سے ایسا نہیں ہے۔ دل کے امراض اور فالج کے خطرے کو کم کرنے کے لیے سگریٹ نوشی مکمل طور پر چھوڑنا ضروری ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں