ہیٹ اسٹروک سے بچنے کیلئے کونسی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں

بدھ 18 مئی 2022
کراچی ،فریئر روڈ 123karachi.com
ہیٹ ویو میں عمومی درجہ حرارت5ڈگری ذیادہ ہو جاتا ہے۔رواں برس مئی میں شدید گرمی اور حبس سےملک بھر میں درجہ حرارت 40 ڈگری سے ذیادہ اور سندھ میں 50ڈگری تک پہنچا ہے۔ ۱۲۲سال کا رکارڈ ٹوٹا ہے۔ شدید گرمی اور حبس کی /وجہ سے ہیٹ اسٹروک شدید نقصان کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ہمارے جسم کا درجہ حرارت36.8 C  ہےلیکن جیسے جیسے جسم کا درجہ حرارت گرم ہوتا ہے خون کی نالیاں کھلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس سے فشارِ خون میں کمی واقع ہوتی ہے اور دل کو جسم میں خون پہنچانے کے لیے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔
ماہرین نے شہریوں کو ہیٹ اسٹروک سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے

۔ ماہرین کے مطابق ہیٹ اسٹروک کی وجوہات میں گرم اور خشک موسم، شدید گرمی میں پانی پیئے بغیر محنت و مشقت یا ورزش کرنا، جسم میں پانی کی کمی، پیاس کا بڑھ جانا،دھوپ میں براہ راست زیادہ دیر رہناشامل ہے۔
کم فشارِ خون کی وجہ سے لو بھی لگ سکتی ہے جس کی علامات یہ ہیں:
سر چکرانا، بے ہوش ہونا، الجھن کا شکار ہونا، متلی آنا، پٹھوں میں کھچاؤ محسوس کرنا، سر میں درد ہونا، شدید پسینہ آنا، تھکاوٹ محسوس کرنا۔
ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کی اہم تدابیر
گرمیوں میں ہیٹ اسٹروک کے امکانات ہوتے ہیں چنانچہ اس سے بچنے کےلئے تدابیر بھی اپنانی چاہیے تاکہ ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔خود بھی اور اپنے بچوں کو بھی ان احتیاط کے ساتھ باہر بھیجیں اور نکلیں۔
جب موسم بہت زیادہ گرم ہو تو بہتر ہے کہ کم از کم گھر سے باہر نکلیں
اگر ممکن ہو تو  باہر کے کام دن کے ٹھنڈے اوقات میں کرنے کی کوشش کریں یعنی علی الصبح یا سورج غروب ہونے کے بعد۔ہیٹ ویو سے بچنے کیلئے لوگوں کو صبح10سے شام 4 بجے تک غیر ضروری طور پر باہر نہیں نکلنا چاہئے ، اگر گھر سے باہر جانا ضروری ہو تو کوشش کریں کہ سر ڈھانپ کر نکلیں ۔
چھتری کا استعمال
سورج سے بچنے کے لیے چھتری کا استعمال ضرور کریں۔دھوپ میں کالے رنگ کی چھتری کے استعمال سے ۹۰ فیصد گرمی سے بچاتی ہےجبکہ رنگین چھتری۷۵سے ۷۰تک بچا تی ہے ۔

پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال
چونکہ گرمی سے متعلق بیماری نمکیات کی کمی کے نتیجے میں بھی ہو سکتی ہے۔ پسینہ بہنے کی وجہ سے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی واقع ہونے کی وجہ سے جسم میں ان کا توازن بدل جاتا ہے۔ پانی کی کمی کا شکار شخص گرمی کو ختم کرنے کے لیے اتنی تیزی سے پسینہ نہیں نکال سکتا، جس کی وجہ سے جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔زیادہ سے زیادہ پانی پینا عادت بنائیں۔ پانی ہر وقت اپنے ساتھ رکھیں اور وقفے وقفے سے پیتے رہیں۔روزانہ کم از کم تین لیٹر پانی تو لازمی پینا چاہیے، خاص طور پر پانی کے ذریعے اپنے جسم میں نمکیات اور پانی کا توازن برقرار رکھنا چاہیےاور ساتھ ہی اگر او آر ایس ملا لیں تو زیادہ بہتر ہو گا تاکہ جسم میں نمکیات اور پانی کی کمی با آسانی پوری ہو جائے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کھیرے کا جوس، ناریل کا پانی، لیموں کا جوس کا استعمال کرنا چاہیے۔
پیشاب کی رنگت کو نظر میں رکھیں
اگر اس کی رنگت گہری ہو تو یہ جسم میں پانی کی کمی کی ایک نشانی ہے جبکہ ہلکا زردیا شفاف رنگ جسم میں پانی کی مناسب مقدار کا عندیہ دیتا ہے۔نمکیات کی کمی سے گردوں کو خون کی سپلائی متاثر ہوتی ہے۔ہیٹ اسٹروک کو فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ علاج نہ کیے جانے والے ہیٹ اسٹروک آپ کےجسم کے بڑے آرگن دماغ، دل، گردوں،جگر آنتوں ، معدہ کو تیزی سے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ خون میں نمکیات کی کمی سے پٹھوں میں درد ہو تا ہے
علاج میں تاخیر ہونے سے نقصان مزید بڑھ جاتا ہے، جس سے آپ کے سنگین پیچیدگیوں یا موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ہلکے اور نرم کپڑے پہنیں
ڈھیلے اور ہلکے رنگوں کے ملبوسات کاٹن جیسے ہوا دار کپڑے پہنیں، تاکہ پسینہ سوکھ جائے۔ ہلکا پھلکا، ہلکے رنگ کا، ڈھیلا ڈھالا لباس پہنیں، سیاہ یا گہرے رنگ کے کپڑوں کا استعمال ہرگز نہ کریں۔کالے اور شوخ رنگ گرمی کو جذب کرتے ہیں اور آپ کے جسم میں منتقل کر دیتے ہیں۔
جب ہیٹ انڈیکس زیادہ ہو اور اگر آپ کو باہر جانا ضروری ہے، تو آپ یہ اقدامات اٹھا کر ہیٹ اسٹروک سے بچ سکتے ہیں۔ لسی میں نمک شکر ملا کر یینا بھی بہت فائدے مند ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں