کراچی میں بجلی جاتے ہی موبائل فون سگنلز غائب ہونا معمول بن گیا ,بجلی نہ ہونے کی صورت میں ٹاورز کا اسٹینڈ بائے سسٹم بھی ایندھن کی عدم فراہمی کی باعث بندکر دیا جاتا ہے,ٹاورز کی تعداد نصف سے بھی کم کردی گئی

کراچی میں بجلی جاتے ہی موبائل فون سگنلز غائب ہونا معمول بن گیا ,بجلی نہ ہونے کی صورت میں ٹاورز کا اسٹینڈ بائے سسٹم بھی ایندھن کی عدم فراہمی کی باعث بندکر دیا جاتا ہے,ٹاورز کی تعداد نصف سے بھی کم کردی گئی

بدھ 16فروری 2022
کراچی ، فریئر روڈ ( 123karachi.com)
موبائل فون کمپنیوں نے کراچی میں نصب سینکڑوں اپنے سگنل ٹاورز کی تعداد نصف سے بھی کم کردی اور جو ٹاورز موجود ہیں انکے اسٹنڈ بائے جنریٹر کا نظام بھی پیٹرول اور ایندھن کی عدم فراہمی کے باعث ناقص کر دیا ۔کراچی کے مختلف علاقوں میں لوڈ شیڈنگ یا اور کسی وجہ سے بجلی کی عدم فراہمی کا سد باب کرنے کے لیئے موبائل فون کمپنیوں نے اپنے ٹاورز کو فعال رکھنے کے لیئے اسٹینڈ بائے جنریٹرز کا انتظام کیا ہوا تھا جن کو یومیہ بنیادوں پر ہزاروں لیٹر پیٹرول اور ایندھن فراہم کر کے چلایا جاتا تھا ، مگر گزشتہ چند سالوں سے موبائل فون ٹاورز کے اسٹینڈ بائے جنریٹرز کو کمپنیوں نے پیٹرول اور ایندھن کی فراہمی بند کر رکھی ہے۔ جس کی وجہ سے بجلی جانے کی صورت میں موبائل فون نیٹ ورک سرے سے ہی غائب ہو جاتا ہے یا انتہائی ناقص ہو جاتا ہے۔لیاقت آباد ڈاکخانہ ، اطراف اور بی ایریا کے صارفین نے 123karachi.com کو بتایا کہ گزشتہ دنوں انکے علاقے کی لائٹ گئی تو موبائل فون سگنلز بھی نا پاید ہو گئے ۔موبائل فون ٹاورز کو پٹرول فراہم کرنے والے ایک ذریعے نے بتایا کہ فون کمپنیوں نے بچت کے لیئے اسٹینڈ بائے جنریٹرز کو 80 فیصد پیٹرول ، ایندھن کی فراہمی بند کر رکھی ہے ، یو فون ، جاز، اور زونگ نے اپنے ٹاورز کی تعداد نصف سے بھی کم کردی ہے۔ صارفین نے PTAسے اپیل کی ہے کہ موبائل فون کمپنیوں کو پابند کریں کہ وہ اپنے ٹاورز کی تعداد اور معیار کو صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد کی مناسبت سے معیاری بنائیں ۔ صارفین کی تعداد تو کروڑوں میں ہو چکی ہے مگر فون ٹاورز کی تعداد میں دن بہ دن کمی ہوتی جا رہی ہے۔ یو فون نے تو پورے لیاقت آباد کے لیئے صرف ایک ٹاور ہی فعال کر رکھا ہے جو کہ لیاقت آباد بلاک 3 پر نصب ہے۔ لیاقت آباد کے یو فون کے بیشتر صارفین سگنل پکڑنے کے لیئے چھتوں ، گیلریوں یا مکانات کی اوپری منزلوں پر جانے پہ مجبور ہو جاتے ہیں۔ پیسے بچانے کے لیئے کمپنیوں نے اسٹینڈ بائے جنریٹرز کو سوئی گیس کے ذریعے چلانے کا سلسلہ بھی غیر قانونی طور پر جاری کر رکھا ہے جس کے باعث علاقے میں گیس کی سپلائی بھی متاثر ہو جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں