UBL کی ناقص پالیسی کے باعث ، گھروں تک محدود بیمار صارفین آن لائن اکاﺅنٹ کھلوانے سے قاصر،ہزاروں بیمار صارفین کی اسٹیٹ بینک سے فوری مداخلت کی اپیل

UBL کی ناقص پالیسی کے باعث ، گھروں تک محدود بیمار صارفین آن لائن اکاﺅنٹ کھلوانے سے قاصر،ہزاروں بیمار صارفین کی اسٹیٹ بینک سے فوری مداخلت کی اپیل

جمعرات 10فروری 2022
کراچی ، فریئر روڈ ( 123karachi.com)
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے تمام پاکستانی بینکوں کو شہریوں کا آن لائن اکاﺅنٹ کھولنے کی ہدایت کی گئی تھی ، تا کہ زیادہ سے زیادہ شہری بینکنگ کے ذریعے مالی معاملات انجام دے سکیں مگر حبیب بینک ، یو بی ایل اور دیگر بینکوں کی جانب سے اسٹیٹ بینک کی پالیسی کے بر عکس عمل کیا جا رہا ہے۔بینک اکاﺅنٹ کھولنے کے عمل کو مکمل طور پر آن لائن کرنے کے بجائے صارفین کو بار بار بینکوں کے چکر لگوائے جاتے ہیں ۔ایک صارف نے بتایا کہ انھوں نے آپریشن کروانے کے بعد یو بی ایل میں آن لائن اکاﺅنٹ کھولنے کے لیئے اپنے گھر بیٹھے آن لائن اپلائی کیا ، تمام متعلقہ دستاوزات وغیرہ آن لائن بینک کو ارسال کر دی تقریباً دو ماہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد اکاﺅنٹ تو کھول دیا گیا مگر Care UBL کی جانب سے صارف کو ای میل کے ذریعے بتایا جاتا رہا کہ وہ بینک جا کر بایﺅ میٹرک ویریفکیشن کروایں ورنہ انکا اکاﺅنٹ غیر فعال کر دیا جائے گا۔صارف نے اپنے آپریشن کا بتا کر بینک مینجر سے درخواست کی کہ کیونکہ وہ آپریشن کے باعث گھر سے باہر نہیں جا سکتے تو کسی بینک افسر کو بایﺅمیٹرک مشین کے ہمراہ انکے گھر بھیج دیا جائے ۔ بینک مینجر نے صارف کے گھر بینک اسٹاف بھیج کر پورٹیبل ڈیوائس کے ذریعے صارف کی بایﺅمیٹرک وریفکیشن کروالی۔مگر تعجب کی بات یہ ہے کہ Care UBL کی جانب سے پھر صارف کو کہا گیا کہ انکو لازمی بینک آکر اپنی بایﺅمیٹرک وریفکیشن کروانی پڑے گی ورنہ انکا اکاﺅنٹ بند کر دیا جائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بینک اسٹاف نے گھر آکر وریفکیشن کر لی تو پھر کیوں صارف کو لازمی بینک بلایا جا رہا ہے؟ جبکہ صارف آپریشن کے باعث گھر تک محدود ہیں اور طبی بنیادوں پر بینک جانے سے قاصر ہیں۔ اس طرح یو بی ایل بینک کی غیرذمہ دارانہ پالیسی کے باعث وہ صارفین آن لائن بینک اکاﺅنٹ کھلوانے سے قاصر ہو گئے جو کہ طبی بنیادوں پر ، عمر رسیدہ ہونے یا کسی اور مجبوری کے باعث بینک جانے سے قاصر ہیں ۔صارفین نے اسٹیٹ بینک سے اپیل کی ہے کہ ایسے ہزاروں صارفین جو کہ کسی مجبوری کے باعث بینک نہیں جا سکتے انکی بایﺅ میٹرک وریفکیشن انکے گھر پر بینک عملہ بھیج کر ہی کروائی جائے ۔ UBLکے سربراہ شہزاد ڈاڈا کو بھی فوری طور پر UBLمیں اصلاحات لانی چاہیئے تا کہ بیمار صارفین بھی گھر بیٹھے بینکنگ ضروریات آن لائن پوری کر سکیں ۔ اسی طرح ایک صارف حبیب بینک لیاقت آباد ڈاکخانہ برانچ میں اپنا اکاﺅنٹ کھلوانے گئے تو انھیں بینک مینجر اظفر تنظیم نے نصف درجن چکر لگوائے واضح رہے کہ بینک محتسب کی رپورٹ کے مطابق انھیں سب سے زیادہ شکایت حبیب بینک کے صارفین کی جانب سے موصول ہوتی ہیں ، جبکہ دوسرے نمبر پر یوبی ایل کے صارفین شکایات کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں