کراچی میں جاری غیر قانونی تعمیرات کے مسئلے کا حل !

کراچی میں جاری غیر قانونی تعمیرات کے مسئلے کا حل !

تحریر : توصیف حنیف
پیر 31جنوری2022

٭کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کے نہ رکنے والے سلسلے کے باعث شہر کا ہر قسم کا انفرا اسٹرکچر بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگرمتعلقہ اداروں کے بیشتر عناصر غیر قانونی تعمیرات میں ملوث ہیں ، جن اداروں کا کام غیر قانونی تعمیرات کا سد باب کرنا ہے وہ ہی اسکی ترویج میں منہمک ہیں۔ شہر کے بیشتر گنجان آبادی والے علاقوں خصوصاً لیاقت آباد ، کھارا در ، گارڈن، عزیز آباد ، ناظم آباد میں ہر گلی میں بیشتر پلاٹوں پر 5سے 8منزلہ غیر قانونی تعمیرات بنا دی گئی ہیں ۔ ایک گلی میں جہاں اوسطاً 50 ایک یا دو منزلہ گھر ہوا کرتے تھے وہاں اب 80فیصد گھروں کو 7 منزلہ غیر قانونی تعمیرات میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔جس کے باعث 500 رہائشی افراد کے بجائے ہر گلی میں اوسطاً کئی ہزار افراد رہائش پزیر ہو چکے ہیں ۔ لیاقت آباد کی ہر گلی میں اوسطاً 8 انچ ڈایامیٹر کی سیوریج کی لائن ڈالی گئی ہے جو کہ 500افراد کے حساب سے بھی نا کافی ہے۔ مگر ہزاروں افراد کی رہائش ہوجانے کے بعد تو مذکورہ چھوٹے ڈایا کی سیوریج لائن بلکل ہی چوپٹ ہو گئی ہے۔ لیاقت آباد میں جہاں ایک گلی اتنی چوڑی ہوا کرتی تھی کہ گلی میں آرام سے 2ٹرک ساتھ ساتھ آجایا کرتے تھے وہاں اب یہ صورت حال ہے کہ اس گلی سے ایک رکشہ بھی بمشکل گزر پاتا ہے۔ اسی طرح گیس کا بحران بھی غیر قانونی تعمیرات ہونے کے باعث بے تحاشہ بڑھ گیا ہے۔ گیس کی سپلائی اور گیس لائنز 35 سال پرانی آبادی کے حساب سے ڈالی گئی تھیں جس میں تا حال کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ فراہمی آب کا مسئلہ بھی بیشتر آبادیوں میں موجود ہے۔ اگرچہ بلڈرز غیر قانونی تعمیرات میں بورنگ بھی کروالیتے ہیں جس کے باعث کچھ حد تک پانی کی فراہمی کچھ علاقوں میں نارمل ہو جاتی ہے۔
زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ غیر قانونی تعمیرات کو روکنا بہت حد تک نا ممکن ہو گیا ہے کیونکہ بلڈر 6 ماہ میں 7 منزلہ عمارت بنا کر تقریباً 60لاکھ خالص منافع کما لیتا ہے۔جبکہ بلڈر متعلقہ اداروں اور افراد کو بھی تقریباً 8 سے 28لاکھ کا نزانہ پیش کر دیتا ہے ۔ انتہائی کثیر منافع ہونے کے باعث سرکاری اورغیر سرکاری عناصر غیر قانونی تعمیرات روکنے میں مطلوبہ دلچسپی نہیں دکھاتے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ غیر قانونی عمارتوں کی تعمیرات میں ملوث بلڈروں پر ایک ٹیکس عائد کر کہ اسی ٹیکس کی رقم سے متعلقہ علاقوں میں بنیادی انفرا اسٹرکچر موجودہ آبادی کے تناسب سے بنا دیا جائے ۔ مطلب یہ کہ جس گلی میں غیر قانونی تعمیرات ہو اسی گلی کے غیر قانونی تعمیرات کرنے والے عناصر سے ٹیکس وصول کر کہ اسی گلی کے گٹر اور گیس لائنز وغیرہ ازسر نو ڈال دی جائیں جو کہ موجودہ دور کی آبادی کے تناسب سے ہوں ۔ اور مذکورہ رقم صرف اور صرف متعلقہ علاقے کی فلاح و بہبود پر ہی خرچ کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں