لیاقت آباد کی ہزاروں غیر قانونی7منزلہ ناقص عمارتوں کی جانچ کے لیئے NEDکے ذریعے معائنے کرانے کا منصوبہ قابض ٹولے نے ناکام کر دیا

لیاقت آباد کی ہزاروں غیر قانونی7منزلہ ناقص عمارتوں کی جانچ کے لیئے NEDکے ذریعے معائنے کرانے کا منصوبہ قابض ٹولے نے ناکام کر دیا

123karachi.com
پیر 08مارچ2021
کراچی، فریئر روڈ (سن رائز رپورٹ )
لیاقت آباد ٹاﺅن میں حسب دستور غیر قانونی تعمیرات کا انبار بن رہا ہے۔ 60،80،90گز کے چھوٹے پلاٹوں پر 7اور 8منزلہ غیر قانونی ناقص سامان اور طریقے سے تعمیرات جاری ہیں۔مذکورہ ہزاروں غیر قانونی عمارتوں کے لیئے کسی بھی قسم کی ٹیکنیکل جانچ کا کوئی طریقہ نہیں اپنایا جاتا، نہ ہی کیسی لیب سے سوائل ٹیسٹینگ کروائی جاتی ہے۔
‎ SBCAکے سابقہ ڈی جی آشکار داور نے نمائندہ سن رائز سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ لیاقت آباد میں بننے والی تمام ہزاروں غیر قانونی تعمیرات ناقص طریقے اور سامان سے بنائی جاتی ہیں۔ اور کسی بھی درمیانے درجہ کے زلزلے کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ اپنی ڈی جی شپ کے دور میں انھوں نے کوشش کی تھی کہ NED یونیورسٹی کے طلبہ پر مشتمل خصوصی سروے ٹیم بنا دی جائے جو لیاقت آباد کی مذکورہ 7منزلہ عمارتوں کی تعمیرات کی جانچ کرکےمناسب کاروائی عمل میں لائیں۔آشکار داور کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس منصوبے کا کیا ہوا کچھ پتہ نہیں اور موجودہ DG شمس الدین سومرو تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔کراچی کے شہریوں سے انھیں قطعی کوئی دلچسپی نہیں۔ شہری علاقوں پر قابض متعصب ٹولے کی کٹھ پتلی کا کردار نبھانے میں DGبخوبی مصروف ہیں۔لیاقت آباد ٹاﺅن کے علاقے شریف آباد کے بلاک 1میں پلاٹ نمبر R-747اور R-670 پر زور و شور سے 3منزلہ فلیٹوں اور مارکیٹوں کی تعمیرات جاری ہیں ۔ جبکہ7/11پر آٹھواں فلور تیزی سے تعمیر کیا جا رہا ہے مذکورہ عمارت اور اس کی قریبی عمارتوں میں اس عمارت کی تعمیر کی وجہ سے دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ جبکہ مذکورہ عمارت سے آگے پیچھے اور دائیں بائیں سے جا بجا سیمنٹ اور پلاسٹر وغیرہ اکھڑ اکھڑ کر گر رہا ہے۔واضح رہے کہ مذکورہ عمارت کی 7منزلیں تقریباً 6ماہ قبل تعمیر کی گئی تھیں مگر 6 مہینے کے اندر ہی عمارت اتنی مخدوش ہو گئی کہ مختلف فلورز سے ملبہ اکھڑ کر گر رہا ہے ۔مزید ستم ظریفی یہ ہے کہ بلڈر نے اسی عمارت پر آٹھواں فلور بھی تعمیر کرنا شروع کر رکھا ہے فلور کی دیواریں اور کمرے وغیرہ مکمل کر لیئے گئے ہیں اور کسی بھی دن اس پر آٹھویں چھت ڈالی جا سکتی ہے۔جبکہ Bایریا میں 11/6اور 36/9 پر اسٹیٹ ایجنٹ نما بلڈر عبید قریشی نے بلترتیب3اور 4 منزلہ غیر قانونی عمارتیں تعمیر کر دی ہیں،11/6پر 3غیر قانونی دوکانیں بھی روڈ پر قبضہ کر کے بنائی گئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں