4Lبس کے ڈرائیور سجاد کی مسافر خواتین و لڑکیوں سے دست درازیاں،ٹریفک پولیس کے راشی افسران نے ٹرانسپورٹ مافیا کو ماہانہ کروڑوں کے بھتے کے عوض شہریوں کی جان ، مال اور عزتوں سے کھیلنے کی کھلی چھوٹ دے دی

جمعرات 25فروری2021
دورانیہ مطالعہ :02منٹ
کراچی فریئر روڈ (سن رائز رپورٹ)‎
کراچی ٹریفک پولیس کے راشی افسران نے بسوں ، منی بسوں اور بھاری ٹرانسپورٹ مافیا کو کراچی کے شہریوں کی جان ، مال اور عزتوں سے کھیلنے کی کھلی چھوٹ دے کر اپنی جیبیں بھر لیں۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں چلنے والی بیشتر روٹوں کی بسوں ، منی بسوں اور کوچز وغیرہ کو ٹوکن سسٹم کے ذریعے شہر میں من مانی کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ہر روٹ کی بس کے منشی ، ٹریفک پولیس کے متعلقہ SP، DSPاور SOکو ماہانہ لاکھوں روپے بھتہ دیتے ہیں،بھتہ دینے والی ٹرانسپورٹ مافیا کی ہر گاڑی کو ٹریفک چوکی سے ٹوکن جاری کیا جاتا ہے اور اس ٹوکن کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مذکورہ گاڑی کے خلاف کوئی ٹریفک اہلکار کسی بھی قسم کی چیکنگ یا چلان وغیرہ کی کاروائی نہیں کرے گا، چاہے مذکورہ گاڑی چلانے والے کے پاس لائسینس، روٹ پرمٹ، فٹنس سرٹیفکیٹ وغیرہ بھی نہ ہوں۔ کراچی میں خصوصی طور پر 4Lروٹ کی بسوں کے90 فیصدڈرائیوروں کے پاس کسی قسم کا لائیسینس نہیں ہے، اور 4Lکے ڈرائیور بیشتر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں اور خطرناک انداز سے شہر کے اندرونی سڑکوں پر تیز رفتاری سے ڈرائیونگ کرتے نظر آتے ہیں۔ ٹریفک پولیس ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرتی۔ یہی حال ماشاءاللہ کوچ کی گاڑیوں کا ہے۔کراچی کے سینکڑوں موٹر سائیکل سواروں کو 4Lکی بسوں اور ماشاءاللہ کوچ کے ڈرائیوروں نے حادثات کا شکار کر کے ہلاک و زخمی کر دیا ہے۔
گذشتہ روز 24فروری 2021کو 4Lبس نمبر JA6268کے ڈرائیور سجاد نے بس میں سفر کرنے والی خواتین سے دست درازیاں کیں، جو لڑکیاں اور خواتین بھی ڈرائیور کے ساتھ گیر بکس والی سیٹ پر بیٹھتی تھیں .ڈرائیور سجاد گیر بدلنے کے بہانے جان بوجھ کر خواتین و لڑکیوں کو جسمانی طور پر قابل اعتراض طریقے سے چھوتا رہا۔ کئی خواتین نے ڈرائیور سے اعتراض کیا اور اس کو ڈانٹا تو اس کے باوجود اس نے اپنی حرکات جاری رکھیں۔ سن رائز کی نمائیندہ نے ڈرائیور کی ان حرکات کی تصاویر و وڈیو بنائی تو ڈرائیور ڈھٹائی سے کہتا رہا کہ جتنی مرضی وڈیو بنا لو میرا کچھ نہیں بگڑتا۔ کیونکہ ڈرائیور کے پاس ٹریفک پولیس کا ایشو کردہ ٹوکن تھا۔اسی ڈرائیور کو پولیس کے ایک افسر نے غلط ڈرائیونگ کرنے پر ایمپریس مارکیٹ صدر کے قریب روکا تو ڈرائیور نے اس کوٹوکن شو کر دیا جس کے باعث افسر نے اس کو بنا چلان کیئے جانے دیا۔‎
ڈرائیور کا موبائل نمبر ونڈ اسکرین پر اس نے لکھ کر لگایا ہوا تھا جو کہ03012880128ہے۔ واضح رہے کہ ڈرائیور گاڑی چلاتے ہوئے موبائل فون پر بھی باتیں کرتا رہا، ڈرائیور کی تصویر خبر کے ساتھ منسلک ہے۔
یاد رہے کئی لڑکیوں نے مذکورہ ڈرائیور کے حوالے سے سن رائز کو بتایا کہ وہ جب سے اس سیٹ پر بیٹھی ہیں تب سے وہ ڈرائیور ان کے ساتھ دست درازیاں کرتا آرہا ہے۔
سن رائز میڈیا گروپ نے DIGٹریفک اقبال دارا سے رابطہ کر کے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کروا کر زمہ دار ڈرائیور کے خلاف مثالی کاروائی کی جائے اور کراچی میں چلنے والی تمام بسوں اور منی بسوں وغیرہ کے ڈرائیوروں کے لائیسینس فوری چیک کیئے جائیں کیونکہ 90فیصد ڈارئیوروں کے پاس کسی قسم کے لائیسینس نہیں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں