SOلیاقت آباد صدیق پُھل ون وے کی خلاف ورزی روکنے سے قاصر و ناکام، DIGٹریفک خاموش

SOلیاقت آباد صدیق پُھل ون وے کی خلاف ورزی روکنے سے قاصر و ناکام، DIGٹریفک خاموش

منگل 23فروری2021
دورانیہ مطالعہ :04منٹ
123karachi.com
کراچی،فریئر روڈ
کراچی بھر میں ٹریفک قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔جس سے شہریوں کی جان و مال کو نقصان پہنچ رہا ہے، متعصب سندھ حکومت شہری علاقوں کو تباہ کرنے کی راہ پر گامزن ، وزیر ٹرانسپورٹ غائب حتیٰ کہ عوام کو وزیر ٹرانسپورٹ کا نام تک نہیں معلوم کیونکہ انہوں نے آج تک شہری علاقوں کے لیئے کچھ کیا ہی نہیں ، سوائے تباہ کرنے کے۔
فوجی علاقوں کے علاوہ تقریباً ہر چھوٹی بڑی سڑک پر لوگ اندھا دھند ون وے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رونگ سائیڈ گاڑیاں ڈرائیو کرتے نظر آتے ہیں۔کراچی میں کوئی ایک بھی ٹریفک اہلکار ون وے کی خلاف ورزی کر کے غلط سمت سے آنے والی گاڑیوں کو روکنے کی زحمت بھی نہیں کرتا۔ واضح رہے کہ غلط سمت سے آنے والوں میں صرف موٹر سائکل سوار ہی نہیں بلکہ ہر قسم کی چھوٹی بڑی گاڑیاں شامل ہیں۔حتیٰ کہ ٹرک، منی بسیں، کوسٹر اور پولیس موبائلیں بھی ون وے کی سنگین خلاف ورزیاں کرتی جا بجا نظر آتی ہیں۔
خصوصاً لیاقت آباد ڈاکخانے سے مشہور گول گپّے والے روڈ پر د ھڑلے سے اور انتہائی تیز رفتاری سے رونگ سائیڈ گاڑیاں چلائی جاتی ہیں۔اور ٹریفک پولیس اس کی روک تھام کے لیئے کوئی کردار ادا نہیں کرتی۔ حتیٰ کہ ٹریفک کے سپاہی بھی ڈاکخانہ نرالا سوئیٹس موڑ پر تعینات نہیں کیئے جاتے۔ اکثر سپاہی عمران الیکٹرانکس کے سامنے واقع زیلی سڑک پر بیٹھے گپیں مارتے نظر آتے ہیں۔ یا شہریوں کو تنگ کر کے ان سے رشوت طلب کرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں کھڑے سپاہی اکثر شہریوں سے بد تمیزی سے پیش آتے ہیں، اس حوالے سے123karachi.com نے لیاقت آباد کے SOصدیق پُھل سے گفتگو کی تو انھوں نے بتایا کہ وہ عرصہ 3سال سے لیاقت آباد میں SOکی حیثیت سے تعینات ہیں، اور وہ کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی نفری شہریوں سے شائستگی سے پیش آئے اور اس حوالے سے انھوں نے اپنی نفری کو خصوصی ہدایت بھی دی ہے۔ مگر لیاقت آباد ڈاکخانہ سے دو نمبر جانے والے روڈ پر ون وے کی خلاف ورزی کرنے والوں کو روکنے کے لیئے انھوں نے کیا اقدامات کیئے ہیں اس حوالے سے وہ کچھ بھی بتانے سے قاصر رہے کیونکہ ان کے پاس بتانے کو کچھ تھا ہی نہیں۔‎
واضح رہے کہ لیاقت آباد ڈاکخانہ سے لے کر 2نمبر تک نزد (مشہور گول گپے) والے روڈ پر کوئی ایک ٹریفک کانسٹیبل SOکی جانب سے تعینات نہیں کیا گیا اور مذکورہ مقام پر ہی سب سے زیادہ ٹریفک جام رہتا ہے اور ون وے کی سنگین خلاف ورزیاں بھی اس ہی سڑک پر ہوتی ہیں۔دوسری جانب درجنوں ٹریفک اہلکار عمران الیکٹرانکس ڈاکخانہ لنگر خانہ کے سامنے خالی بیٹھے گپیں مارتے نظر آتے ہیں۔شہریوں نے کہا ہے کہ DIG ٹریفک اقبال دارا کو دفتر سے نکل کر کراچی کی سڑکوں کا بھی دورہ کرنا چاہیے۔
ایک رکشہ ڈرائیور ندیم اقبال نے بتایا ہےکہ لیاقت آباد ٹریفک پولیس کے اہلکار لنگر خانے پر 11روپے دے کر رعائتی نرخوں پر کھانا کھاتے بھی نظر آتے ہیں،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹریفک اہلکاروں کے لیئے دوران ڈیوٹی کروڑوں روپے ان کے کھانے پینے کے لیئے جو مختص کیئے جاتے ہیں وہ کن افسران کی جیبوں میں جاتے ہیں ، اس سوال کا جواب DIGٹریفک کراچی اقبال دارا پر قرض ہے !

اپنا تبصرہ بھیجیں