DG SBCA in hot waters

حکومت سندھ نے ڈائریکثر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اغا مقصود عباس کو عہدے سے ہٹانے کے فیصلے پر عمل درامد بھی شروع کردیا۔ لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں اربوں روپے کی کرپشن میں اغا مقصود عباس اور ان کے شریک ملزم بدنام ٹھیکیدار غلام نبی کی عبوری ضمانت 7 ستمبر کو ختم ہارہی ہے۔ اور حکمران جماعت نے اغا مقصود عباس اور ایسے کرپٹ افسران پر سے اپنا ہاتھ اٹھا لیا ہے جن کی وجہ سے پیپلز پارٹی بدنام ہورہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی کی بدنامی کا باعث بننے والے ان کرپٹ عںاصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے حکومت نے اینٹی کرپشن کو بھی فری ہینڈ دے دیا ہے۔ جس کے بعد اینٹی کرپشن نے سابق ڈی جی نور محمد لغاری ، اغا مقصود عباس ۔ جمیل میمن، منیر بھمبرو سمیت بلڈنگ کنٹرول ، ایل ڈی اے کے 18 افسران کی گرفتاری اور انہیں شامل تفتیش کرنے کی اجازت طلب کرلی ہے۔ دوسری جانب اغا مقصود عباس نے گرفتاری سے بچنے کے لئے اپنی عبوری ضمانت میں توسیع کے لیے عدالت کے چکر لگانے شروع کردئے ہیں۔ اج جمعہ کی صبح ڈی جی سندھ ہائ کورٹ کے ایک انتہائ نچلے درجے کے اہلکار کے ہمراہ گلے میں ہاتھ ڈالے سندھ ہائ کورٹ پہنچے۔ اطلاعات کے مطابق اغا مقصود عباس کسی بھی وقت کنیڈا فرار ہو سکتے ہیں۔ اغا مقصود عباس کے فرنٹ مین اور ایک غیر معروف ماکیٹنگ کمپنی کے روح رواں کے زرئعہ اغا مقصود عباس پر جعلی این او سی برائے تشہیروفروخت جاری کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ متعدد جاری شدہ این او سی کے چالان بینک اکاونٹ میں جمع بھی نہیں کروائے گئے۔
جلد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں بڑی کاروائ کا امکان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں