سگریٹ نوشی مکمل طور پر چھوڑ دینا صحت کے لیئے ضروری ہے

کراچی فریئر روڈ
123karachi.com
اچھی یا بری عادات انسان کی اخلاقی حالت کا پتہ دیتی ہیں تاہم اب سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں ہماری عادات کے ہماری صحت اور زندگی کی
طوالت پر پڑنے والے ایسے اثرات کاانکشاف کر دیا ہے کہ سنتے ہی لوگ اپنی بری عادات ترک کر دیں گے۔ میل آن لائن کے مطابق 4لاکھ 80ہزار لوگوں پر کی جانے والی اس تحقیق کے نتائج میں لیسیسٹر یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ جو لوگ اچھی عادات کے مالک ہوتے ہیں ان کی زندگی بری عادات کے حامل لوگوں کی نسبت 8سال طویل ہوتی ہے اور ان کی صحت بھی ان کی نسبت کئی گنا زیادہ بہتر رہتی ہے۔

باقاعدگی سے ورزش کرن
سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ”صرف سگریٹ نوشی سے گریز کرنا اور باقاعدگی سے ورزش کرنا ہی دو ایسی عادات ہیں جو انسانی زندگی کی طوالت اور صحت مندی پر جادوئی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر یوگنی چداسما کا کہان تھا کہ ”سگریٹ نوشی نہ کرنے اور ورزش باقاعدگی سے کرنے والے لوگ دوسروں کی نسبت زیادہ طویل اور صحت مند زندگی گزارتے ہیں خواہ انہیں کوئی دائمی بیماری ہی کیوں نہ لاحق ہو۔سگریٹ نوشی کرنا اور ورزش نہ کرنا انسان کی ذہنی و جسمانی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتا ہے اور ایسے لوگ زندگی میں کئی طرح کے عارضوں میں مبتلا رہتے ہیں اور ان کی عمر بھی کم ہوتی ہے۔“

دل کا دورہ اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ
ایک نئی تحقیق کے مطابق سگریٹ نوش افراد کو دل کا دورہ اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ کے لیے سگریٹ نوشی کم کرنے کے بجائے مکمل طور پر چھوڑنی ہوگی۔برطانوی میڈیکل جریدے (بی ایم جے) کی جانب سے ایک بڑے پیمانے پر کی گئی تحقیق کے مطابق دن میں صرف ایک سگریٹ پینے والے افراد میں سگریٹ نہ پینے والوں کے مقابلے میں دل کی بیماریوں کا 50 فیصد زیادہ امکان ہوتا ہے اور 30 فیصد امکان فالج کا ہوتا ہے۔سگریٹ پینے والوں کے لیے کینسر کے بجائے دل کے امراض سب سے زیادہ جان لیوا ثابت ہوتے ہیں اور 48 فیصد اموات کا سبب بنتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق برطانیہ میں سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن اُن افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو دن میں ایک سے پانچ سگریٹ پیتے ہیں۔بی ایم جے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ ادھیڑ عمر کے 100 افراد پر کی گئی تحقیق کے مطابق دن میں بیس سگریٹ پینے والوں کو سات دل کے دورے یا فالج کا حملہ ہو سکتا ہے۔

لیکن اگر وہ اپنی سگریٹ نوشی کی تعداد کم کر کے دن میں صرف ایک سگریٹ نوش کریں تب بھی ان کو تین دل کے دورے پڑنے کا خطرہ ہوگا۔محققین کے مطابق دن میں ایک سگریٹ پینے والوں میں دل کی شریان سے متعلق امراض ہونے کے 48 فیصد زیادہ امکان ہوتے ہیں جبکہ سگریٹ نہ پینے والوں کے مقابلے میں ایک سگریٹ پینے والوں میں 25 فیصد پر فالج کا حملہ ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔

تحقیق کے سربراہ، یونی ورسٹی کالج آف لندن کے پروفیسر ایلن ہیک شاہ نےبتایا کہ کئی ممالک میں یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ سگریٹ نوشی کم کرنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے بہتری آئی گی اور یہ کینسر کے معاملے میں درست ہے لیکن دیگر بیماریوں کے حوالے سے ایسا نہیں ہے۔ دل کے امراض اور فالج کے خطرے کو کم کرنے کے لیے سگریٹ نوشی مکمل طور پر چھوڑنا ضروری ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں

اچھی غذاؤں کے ذریعے سرکے درد کا علاج ممکن ہے

کراچی فریئر روڈ
123karachi.com
سردرد…ایک ایسی طبی پریشانی، جس کا تعلق عمر سے ہے نہ صنف سے، لیکن عصر حاضر میں اس عارضہ میں مبتلا افراد کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق سردرد اعصابی نظام کی سب سے عام بیماری ہے، جس نے کل آبادی کے 50 فیصد مرد و خواتین کو متاثر کیا۔ اس حوالے سے اب تک کی مستند ترین تحقیقات میں سے ایک نارویجن یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، ناروے نے کی ہے۔
اس جامعہ کی خصوصی ٹیم نے 1961ء سے 2020ء تک 357 تحقیقاتی اشاعت کا مطالعہ کیا اور پھر اپنی تحقیق کی روشنی میں یہ نتائج دیئے کہ دنیا کی کل آبادی کے 52 فیصد لوگ ہر سال سردرد کے مسئلہ سے دوچار ہوتے ہیں اور 15.8 فیصد لوگ روزانہ کی بنیاد پر سردرد کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں، جن میں نصف تعداد درد شقیقہ کی ہے۔
ڈپریشن، بلڈ پریشر اور کسی بھی قسم کا جسمانی خلل سردرد کی عمومی وجوہات ہیں۔ زیادہ تر معاملات میں سردرد بے ضرر ہوتا ہے لیکن مستقل رہنے سے بعض اوقات یہ فالج اور خون کی کمی جیسی خطرناک بیماریوں کا بھی موجب بن سکتا ہے۔ سردرد کے علاج کے لئے آج مارکیٹ میں سینکڑوں ہزاروں ناموں سے ادویات موجود ہیں، جن پر لوگ سالانہ اربوں روپے خرچ کردیتے ہیں۔ان ادویات کے استعمال سے ہو سکتا ہے عارضی طور پر آپ کو آرام تو محسوس ہو لیکن کیا آپ کو معلوم ہے ان ادویات کے متعدد سائیڈ افیکٹس یعنی مضر اثرات ہیں، جن سے آپ دیگر طبی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔ لہذا یہاں ہم آپ کو ایسی غذاؤں کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں، جن کے استعمال سے آپ کو بغیر کسی سائیڈ افیکٹ کے سردرد سے نجات حاصل ہو سکتی ہے۔
تربوز
غذاؤں کے ذریعے سردرد کے علاج میں تربوز کو پہلا نمبر حاصل ہے کیوں کہ یہ نہ صرف پوٹاشیم اور میگنیشیم سے بھرپور ہوتا ہے بلکہ اس میں 90 فیصد پانی ہوتا ہے اور جسم میں پانی کی کمی سردرد کی سب سے عام وجہ بیان کی جاتی ہے۔ لہذا سردرد کے علاج میں تربوز کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ تاہم ضروری امر یہ ہے کہ ہمیشہ تازہ تربوز حاصل کرنے کی کوشش کریں کیوں کہ تربوز جتنا تازہ ہو گا، اس میں پانی کی مقدار اتنی ہی زیادہ ہو گی۔
آلو
افادیت کے اعتبار سے آلو کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور سردرد میں تو یہ مزید موثر ہو جاتا ہے، خصوصاً ایسے افراد کے لئے تو یہ بہت ہی فائدہ مند چیز ہے، جو ممنوعہ مشروبات کے عادی ہیں کیوں کہ ان مشروبات کے استعمال سے جسم میں پانی اور پوٹاشیم کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جسم میں پانی اور پوٹاشیم کی کمی سردرد کی ایک اہم وجہ ہے اور آلو کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ یہ پانی اور پوٹاشیم سے بھرپور ہوتا ہے، لہذا جب بھی آپ پانی یا پوٹاشیم کی کمی کے باعث سردرد کا شکار ہوں تو فوری طور پر ابلے ہوئے آلو کا استعمال کریں، جو آپ کو صحت یابی کی طرف گامزن کر دے گا۔
بادام
بادام ایسے وٹامنز اور منرلز سے بھرپور ہوتا ہے، جو آپ کی صحت کے لئے نہایت مفید تصور کئے جاتے ہیں اور یہی اجزاء آپ کو سردرد کی پریشانی سے بھی بچاتے ہیں۔ بادام میگنیشیم سے بھرا ہوتا ہے، جو اعصاب اور پٹھوں کے تناؤ کو کم اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں نہایت مددگار ثابت ہوا ہے، ہائی بلڈ پریشر سردرد اور درد شقیقہ کا باعث بن سکتا ہے، لہذا اپنی خوراک میں میگنیشیم سے بھرپور غذائیں جیسے بادام وغیرہ کے استعمال کو بڑھائیں تاکہ آپ سردرد اور دیگر بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔ میگنیشیم کے ساتھ بادام میں سلیسن نامی مرکب بھی پایا جاتا ہے، جو جسم میں اسپرین کے طور پر کام کرتا ہے، ماہرین کے مطابق ڈاکٹر کے مشورے سے روزانہ 10 سے 15 بادام آپ کو سردرد سمیت چند دیگر پریشانیوں سے بچا سکتے ہیں۔
مچھلی

مچھلی ایک اور ایسی غذا ہے، جس کا وقفے وقفے سے استعمال آپ کو درد سر کی شکایت سے نجات دلا سکتا ہے۔ مچھلی خصوصاً سرمئی رنگ کی مچھلی (میکریل) اور سالمن اومیگا تھری فیٹس، اینٹی سوزش اور اعصابی نظام کی حفاظت کرنے والے اجزاء سے بھرپور ہوتی ہے۔ سرمئی رنگ کی مچھلی کا استعمال ایسے لوگوں کے لئے نہایت مفید ہے،جو درد شقیقہ کا شکار ہیں۔ اسی طرح سالمن میں اومیگا تھری سمیت چند ایسے اجزاء شامل ہوتے ہیں، جو دماغ کے کام کرنے کی صلاحیت کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ لہذا اگر آپ کو مچھلی پسند نہیں بھی ہے تو پھر بھی کسی دوسرے غذا جیسے انڈے وغیرہ کے ساتھ ملا کر ہفتے میں ایک بار اسے ضرور کھائیں۔

روزمیری (خوشبودار جھاڑی) کا تیل

کیا آپ نے کبھی گھریلو ٹوٹکوں میں روزمیری کا تیل استعمال کیا ہے؟ نہیں کیا تو اس کی عادت ڈالیں کیوں کہ یہ ایک ایسی خوشبودار جھاڑی ہے، جو دردشقیقہ، ہارمونز کے عدم توازن سے پیدا ہونے والے سردرد اور ذہنی تناؤ میں نہایت مفید تصور کی جاتی ہے۔ انسان اس جڑی بوٹی کو سینکڑوں سال سے ذہنی تندرستی اور قوت کے لئے استعمال کرتا آیا ہے۔ روزمیری کی ان خصوصیات کی وجہ اس میں اینٹی سوزش جزو اور درد میں کمی کے لئے پائی جانے والی دیگر خصوصیات ہیں۔ اس کا استعمال نیند میں بہتری اور پٹھوں کے تناؤ کو آرام دیتا ہے۔ روزمیری کے استعمال کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کے چند قطرے بادام یا ناریل کے تیل میں شامل کرکے آہستگی سے کانوں کے پچھلے حصے اور ماتھے پر مساج کریں یا پھر گرم پانی میں روزمیری تیل کے چند قطرے ڈال کر اس سے نہائیں۔

کھمبی

کیا آپ جانتے ہیں کہ بعض اوقات آنتوں کے مسائل سردرد کا سبب بن سکتے ہیں؟ اگر درد شقیقہ کی وجہ سے معدہ خراب ہوتا ہے تو دوسری طرف خراب معدے یا آنتوں کی وجہ سے سر درد بھی ہوتا ہے تو ایسی صورت میں آپ کا جسم غذا کو پوری طرح سے ہضم نہیں کر پاتا اور نتیجتاً سردرد سمیت دیگر طبی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ تو اس صورت حال سے بچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ ایسی غذائیں کھائیں جن میں ریبوفلاون زیادہ ہو، ریبوفلاون ایک ایسا وٹامن ہے جو میٹابولک نظام کی بہتری کے لئے نہایت فائدہ مند ہے یعنی یہ ہضم کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے اور مشروم یعنی کھمبی انہی غذاؤں میں سے ایک ہے، جو ریبوفلاون سے بھرپور ہے۔ مختلف تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ ریبوفلاون درد شقیقہ کے علاج میں نہایت موثر ہے۔ لہذا ناشتے یا دوپہر کے کھانے میں مشروم کو سلاد کے طور پر استعمال کریں تاکہ آپ کو درد سر سے مستقل نجات مل سکے۔

کیلا

اگر آپ سردرد سے نجات یا اس درد کو مزید بڑھنے سے روکنا چاہتے ہیں تو فوری طور پر کیلے کی طرف رجحان کریں کیوں کہ کیلا پوٹاشیم اور میگنیشیم سے بھرپور ہوتا ہے۔ جسم میں پوٹاشیم کی کم مقدار ہائی بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کا سبب بن سکتی ہے، جس سے پھر سر میں شدید درد بھی رہتا ہے۔ کیلے میں 74 فیصد پانی ہوتا ہے، لہذا کیلا کھانے سے تمام مذکورہ کمیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔

لال مرچ

اگر آپ مسالے دار غذائیںکھانے کے شوقین ہیں تو آپ کو سر کے درد کا یہ علاج پسند آئے گا۔ سر درد کے علاج میں لال مرچ کیسے کام آسکتی ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ نصف کپ گرم پانی میں چائے کے چمچ کا ایک چوتھائی حصہ سرخ مرچ ڈال کر اسے اچھی طرح مکس کر لیں، پھر تھوڑی سے کاٹن یعنی روئی کو اس پانی میں کچھ اس طرح ڈبوئیں کہ وہ اچھی طرح جذب کر لے، پھر اس کاٹن کو اپنی ناک کے نتھنوں میں آہستگی سے رگڑیں، اگرچہ ایسا کرنے سے آپ کو اچھا محسوس نہیں ہوگا لیکن مختلف سائنسی تحقیقات بتاتی ہیں کہ اس عمل کے بعد آپ 40 روز تک سردرد کی علامات کو خود سے دور رکھ سکتے ہیں۔

ادرک

ایشیائی ممالک میں ادرک کا کھانوں میں استعمال عام ہے، جس کی وجہ بلاشبہ ادرک کی افادیت ہے، ویسے تو ادرک کے متعدد فوائد ہیں لیکن ان میں سے ایک سردرد کا علاج بھی ہے۔ اس میں قدرتی طور پر ایسے کیمیکل مرکبات پائے جاتے ہیں جو سر میں جانے والی خون کی شریانوں کی سوجن کو کم کرکے سردرد سے نجات دیتے ہیں۔ ادرک جسم میں سیروٹونن کی سطح کو بڑھاتا ہے، جو خون کی نالیوں کے لئے نہایت مفید تصور کیا جاتا ہے۔ کھانوں کے ساتھ ادرک کی چائے بنا کر پینے سے بھی سردرد سمیت دیگر طبی مسائل سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے یا کم از کم ان میں کافی حد تک ریلیف مل سکتا ہے۔

پالک

پالک کے ذائقے کو آپ پسند کریں یا ناپسند لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ سبز پتوں والی سبزی انسانی جسم کے لئے نہایت مفید ہے۔ پالک میں میگنیشیم اور فولک ایسڈ اچھی خاصی مقدار میں پایا جاتا ہے، جو سردرد کی شدت کو کم کرنے میں نہایت معاون ہے۔ درحقیقت میگنیشیم کا باقاعدگی حصول درد شقیقہ کے خطرے کو 40 فیصد تک کم کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ پالک بلڈ پریشر اور سوزش کو کم کرنے میں مدد کرتی ہے، جو سر میں درد کا سبب ہے۔

دہی

کسی مصنوعی فلیور کے بغیر سادہ دہی ضروری وٹامنز اور مختلف غذائی اجزاء سے بھرپور ہوتی ہے۔ یہ وٹامنز اور غذائی اجزاء دیگر مسائل کے ساتھ سردرد سے بھی نجات دلاتے ہیں۔ ان اجزاء میں میگنیشیم، پوٹاشیم، وٹامن بی2 اور وٹامن 12 شامل ہے۔ اور جیسے کہ ہم پہلے بات کر چکے ہیں کہ یہ تمام مرکبات جسم میں سوزش، پٹھوں کے تناؤ کو کم اور خون کی گردش کو بہتر بناتے ہیں۔

سیب کا سرکہ

سیب کے سرکے کے فوائد کے بارے میں دنیا آج سے نہیں بلکہ زمانہ قدیم سے روشناس ہے، لوگ اسے پیتے ہیں،چہرے کے ماسک یا شیمپو وغیرہ میں بھی شامل کرتے ہیں، تاہم حالیہ تحقیقات نے سیب کے سرکے کے ایک اور فائدہ سے پردہ اٹھایا ہے اور وہ ہے بالواسطہ سردرد کا علاج، اس میں پوٹاشیم زیادہ مقدار میں ہوتا ہے جو سردرد سے لڑنے والے مرکبات کے لئے ضروری ہے، یہ بلڈ پریشر کنٹرول کرنے میں بھی معاون ہے۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ ایک کپ کا چوتھائی حصہ سرکہ دو کپ گرم پانی میں ڈال کر اس کی بھاپ لینے سے سر کا درد جاتا رہتا ہے۔

پودینے کا تیل

سردرد کی علامات سے لڑنے کے لئے پودینے کے تیل کا استعمال تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، خصوصاً ایسی حالت میں تو یہ تیل مزید موثر بن جاتا ہے جب سردرد تناؤ کی شکل اختیار کر لے تو ایسی صورت میں پودینے کا تیل پیشانی اور کنپٹی پر لگانے سے 15 منٹ کے اندر درد ختم یا کافی حد تک کم ہو جاتا ہے۔ تاہم یہ یاد رکھیں کہ پودینے کے تیل کی تاثیر بہت تیز ہوتی ہے لہذا اسے ہمشیہ احتیاط سے استعمال کریں، کیوں کہ بلاضرورت تیل کو جلد پر لگانے سے یہ جل بھی سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

کم لڑکے لڑکیوں میں 20 سے 25 منٹ روزانہ کی ورزش انتہائی مفید قرار

میری لینڈ: ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ نوعمر (ٹین ایج) لڑکے لڑکیوں میں روزانہ کی قدرے سخت لیکن 20 منٹ کی ورزش سے بہتر طبی فوائد سامنے آسکتے ہیں اور ان میں دل اور پھیپھڑوں کا نظام بہتر حالت میں رہتا ہے۔جرنل پیڈیاٹرکس میں شائع رپورٹ کے مطابق نوعمر بچوں میں 20 منٹ کی ورزش سے کارڈیوریسپائٹری صحت اچھی رہتی ہے۔ یعنی دل اور پھیپھڑے تندرست رہتے ہیں اور ان اعضا میں آکسیجن کی فراہمی معمول کے تحت رہتی ہے۔ اس طرح مستقبل میں موٹاپے، ذیابیطس، بلڈ پریشر، امراضِ قلب اور دماغی امراض سے بچا جاسکتا ہے۔

اس تحقیق میں 339 بچے شامل کیے گئے جن کی عمریں 13 سے 14 برس تھی۔ تمام شرکا کو اسکولوں میں دو سال تک ورزش سے گزارا گیا جس کی شدت نوٹ کرنے کے لیے کلائی پر سینسر پہنائے گئے تھے۔
ماہرین کے مطابق اگر کوئی بچہ 20 منٹ تک پوری قوت سے دوڑا تو وہ کارڈیوریسپائریٹری بہتری کے بلند درجے پر تھا۔ اس سے زائد وقت کی ورزش کا کوئی خاص فائدہ سامنے نہیں آیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مروجہ معیارات کے تحت ہر نوعمر بچے کو روزانہ 60 منٹ کی متعدل سے شدید درجے کی ورزش تجویز کی جاتی ہے۔ اس طرح تحقیق سے اس کے دورانیے کو کم کرنے میں بھی مدد ملی ہے۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر نوعمر لڑکے لڑکیاں خود کو فٹ رکھنا چاہتے ہیں تو وہ 60 منٹ کی درمیانی شدت کی ورزش یعنی تیز قدمی کی بجائے 20 منٹ کی دوڑ کو اہمیت دیں کیونکہ اس کے بہت فوائد ہیں۔ اس طرح 20 منٹ کی دوڑ لگانے سے بالخصوص نوعمر لڑکے لڑکیاں خود کو بہتر رکھ سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

کامیاب زندگی کے پانچ لازمی اصول

بہت سے لوگ کہتے ہیں جو امیر ہیں سب قسمت کا کھیل ہے۔ایسا نہیں کیونکہ
successful people believe in coaches , while the unsuccessful people knows them blaming
کیا آپ جانتے ہیں سب سے انویسٹمنٹ کی ضرورت آپ کو ہے۔ investing  in yourself ۔
زندگی کے سفر میں کامیابی تجربے سے نہیں نالج سے ملتی ہے۔ کیا کرنے سے کامیابی ملتی ہے۔ آپ کی زندگی بدلنے کے لئے پانچ کامیابی کے اصول ہیں۔ ان اصولوں پر عمل کر کےکامیاب لوگوں نےاپنی زندگی بدلی۔
 
Start your carrier as early as possible-1
جتنی جلدی ہو سکے اپنا کیرئیرشروع کریں۔If you want to become successful and your are a teenager your time start now اگر آپ کی عمر۷ ۱یا ۱۶ سال ہےتو آپ اپنا کیرئیرشروع کریں کیونکہ بزنس setup کرنے کے لئے آپ کو کم سے کم ۷سے ۵ سال لگیں گے تو ۲۵ سال کی عمر میں جا کے آپ کا میاب ہونگے۔
آپ جانتے ہیں  Warren Buffett نے اپنا کیرئیر11 سال کی عمر میں شروع کیا ، پہلی انویسٹمنٹ کی جو کہ دنیا کے پانچ امیر لوگو ں میں سے ہیں۔Virgin Atlantic کے مالک Richard Bransonنے اپنا کیرئیر16سال کی عمر میں شروع کیا ۔جب کہ Elon Musk  نے اپنا پہلا  software  ۱۲سال کی عمر میں پیش کیا۔

Fail quickly but keep moving-2
یہ سچ ہے کہ جو early beginnings  وہ  ۱۰۰ فیصدفیل ہونے والے ہیںکیونکہ ابھی آپ کے پاس نہ skill اور نہ market  knowledge  ہے، ہو سکتا ہے کوئی mentor بھی نہ ہو جو آپ کو بچاسکے۔ آپ اس عمر میں جتنی انفارمیشن اکھٹی کر سکتے ہیں کریں اور کنورٹ کرو اس کو ایکشن میں ۔ مارکٹ میں چیلنج فیس کریں تو سمجھ لیں کہ مارکٹ آپ کا ٹیسٹ لے رہی ہے۔ڈرنا نہیں ہے۔ failure is the part of journey ۔

Educate Yourself-3
ہر ملینر ، بلینرکے لئے ضروری ہے  Educate Yourself ۔ سیکھتے رہے کتابیں پڑھیں، انٹرویوز پڑھئے، کیس اسٹیڈی پڑھیں، تجزیہ کریں دوسرے لوگوں کے بزنس کا۔ہر چیز جو آپ کو بلڈ کرے سیکھتےرہیے،جانتے ہیں ۸۰ فیصد فار سیلف انفارمیشن فری میں مل جاتی ہے، انفارمیشن اکھٹا کر کے اپنی زندگی پر لگائیے۔ سیکھئےاور آگے بڑھئے۔

Sacrifice Social Life-4. غربت اور غریبی سے نجات پانے کے لئے یہ قیمت آپ کو دینی ہی ہوگی۔آپ کے جو شروعاتی سال ہیں اس میں آپ کو سوشل لائف کو بائیکاٹ کرنا ہوگا۔اگر آپ ایک ہفتے میں صرف ۴۰ گھنٹے کام کرتے ہیں تو یہ نا کافی ہونگےآپ ایک عام زندگی جیتے ہیں۔ اور اگر آپ کے ورکنگ ٹائم ۱۰۰ گھنٹے ہے تو یہ آپ کواچھی لائف دے گا۔آپ ۱۰۰ گھنٹے اسی صورت کام کر سکتے ہیں جب آپ سوشل لائف کی قربانی دیں۔ صرف اور صرف فوکس کرنا اپنے کیرئیر اور اپنے گول کے اوپر فوکس کریں ۔

Surround yourself with highly successfully people at any cost-5
اپنے ارد گرد لوگوں کو تلاشئیے، کوئی ایسی ایسوسیئشن تلاشئیےجہاں پراردگرد کے لوگ کے پاس آئیڈیاز ہوں،اینرجیٹک ہوں۔ ان سب کی ایسوسیئشن آپ کمال کر جائیں گے۔
Being with a winner makes you a winner while Being with a loser will make you a loser

اگر آپ نے یہ پانچ پرنسپل اپنے اوپرامپلیمنٹ کر لیے،تو یہ سال آپ کی زندگی کا خوبصورت سال ہونے والا ہے۔  

اپنا تبصرہ بھیجیں

کرپٹو کرنسی کی قیمتیں

Top cryptocurrency trends

# $BTC -61%
# $ETH -64%
# $BNB -67%
# $XRP -82%
# $ADA -86%
# $SOL -85%
# $DOGE -90%
# $DOT -86%
# $AVAX -84%
# $TRX -71%
# $SHIB -89%
# $MATIC -82%
# $LTC -86%
# $FTT -69%
# $NEAR -73%
# $UNI -91%
# $LINK -89%
# $ATOM -80%
# $XLM -86%
# $VET -91%

اپنا تبصرہ بھیجیں

کراچی سمیت پورے صوبے میں یں جلسے جلوسوں پر پابندی

کراچی: محکمہ داخلہ سندھ نے کراچی سمیت صوبے بھر میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144نافد کر دی۔

صوبے بھر میں جلسے، جلوس، ریلیوں اور عوامی اجتماعات پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 144 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

زہر خورانی یعنی فوڈ پوائزننگ

کراچی فریئر روڈ
ہفتہ 21 مئی 2022

ہمارے کرہ ارض پر آلودگی کہاں نہیں ہے؟ماحولیاتی آلودگی کو دور کرنے کیلئے اقدامات کئے جاتے ہیں مگر جن غذاؤں میں بیکٹیریا،وائرس اور جراثیم یا زہریلے مادے شامل ہو جائیں ان کا خیال رکھنا آسان نہیں۔آئیے فوڈ پوائزننگ کی وجہ جاننے کی کوشش کریں۔

کیا آپ کے یا بچوں کے پیٹ میں درد ہو،متلی ہو جائے یا اسہال کی تکلیف ہو اور بخار ہو جائے تو سادہ سی درد کش دوا کھانے سے آرام آ جاتا ہے؟
ہر گز نہیں آپ غور کیجئے آپ نے کیا کھایا تھا؟کوئی غیر محفوظ کھانا آدھا پکا ہوا انڈا یا گوشت کبھی کبھی مرغی بھی یا زیادہ پکے ہوئے پھل اور پرانی سبزیاں؟دراصل ان غذاؤں میں جراثیم مثلاً سالمونیلا،ای کولی اور ہیسٹریا مل گئے ہوتے ہیں جو زہر خورانی یعنی فوڈ پوائزننگ کا سبب بنتے ہیں۔

ماہرین طب کہتے ہیں کہ بعض غذاؤں میں پروسیسنگ کے دوران یا کھانے کی پیداوار کے عمل کے دیگر مراحل کے دوران ان میں آلودگی شامل ہو سکتی ہے۔

زائد العمر افراد اور پانچ برس سے کم عمر بچے اس وجہ سے سنگین بیمار ہو سکتے ہیں۔ان کے جسم میں جراثیم اور بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت مختلف وجوہ کی بنا پر اتنی موثر نہیں ہوتی 65 برس سے زائد افراد کو خطرہ اس لئے ہوتا ہے کیونکہ بڑھتی عمر کے ساتھ ان کے مدافعتی نظام اور اعضا کمزور پڑنے لگتے ہیں اور اسی طرح چھوٹے بچوں کے مدافعتی نظام ابھی زیر نمو ہوتے ہیں اس لئے ان کے جسم کی بیماریوں اور جراثیم سے لڑنے کی صلاحیت اتنی بہتر نہیں ہوتی۔

ای کولی لیسٹریا ایسا خطرناک جراثیم ہے جس کی تشخیص بروقت نہ ہو یا علاج بروقت نہ ہو تو گردے ناکارہ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

فوڈ پوائزننگ سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
طبی ماہرین حفاظتی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ گھروں میں صفائی ستھرائی،غذاؤں کو قدرے فاصلے پر محفوظ کرنا اور درست درجہ حرارت پر پکانا اور پکانے کے بعد کمرے کے درجہ حرارت پر غذاؤں کو ٹھنڈا کرکے فریج میں محفوظ کر دینا ضروری ہے۔
فوڈ پوائزننگ کا سبب بننے والے جراثیم بہت سی جگہوں پر زندہ رہ سکتے ہیں اور ہمارے کچن میں اردگرد پھیل بھی سکتے ہیں اس لئے برتنوں،کٹنگ بورڈز اور کاؤنٹر ٹاپس کو جراثیم کش محلول سے صاف کرتے رہنا ضروری ہے۔بار بار یعنی ہر کام کے بعد اینٹی بیکٹیریا صابن سے ہاتھ دھونا بہتر ہے۔تازہ پھلوں اور سبزیوں کو بہتے ہوئے پانی میں دھو کر محفوظ کریں۔
کچا گوشت،مرغی،سمندری غذائیں اور انڈے بہتر یہی ہے دھو کر (سر کے ساتھ) اس جگہ رکھیں جہاں تیار پکے ہوئے کھانے نہ رکھے ہوں یا فاصلے پر رکھیں۔
گوشت،مرغی اور مچھلی کے لئے علیحدہ کٹنگ بورڈ رکھا جائے تو اچھا ہے۔
شاپنگ کے دوران جب تمام گروسری لے چکیں تو تازہ گوشت،قیمے یا مرغی وغیرہ آخر میں خریدیں اور انہیں علیحدہ شاپر میں اور گاڑی میں بھی فاصلے پر رکھیں۔

ہمارے یہاں فوڈ تھرما میٹر استعمال کرنے کا رجحان کم ہی ہے لیکن اگر ہو تو اچھا ہے۔
بچھیا،بکرے اور مچھلی کو 145F پر پکانا بہتر رہتا ہے۔بڑے جانور کا گوشت 160F پر پکانا بہتر رہتا ہے۔دن بھر یا دو گھنٹے سے زائد عرصے تک ہنڈیا کا محفوظ نہ کرنا یعنی فریج میں نہ رکھنا اسے Danger Zone میں رکھنے کے مترادف ہے۔
بہت سی خواتین فریز کئے گئے کھانے کو کاؤنٹر پر رکھ کر پگھلاتی ہیں اور پھر چولہوں پر گرم کرتی ہیں ہونا یہ چاہئے کہ آپ فریزر سے یعنی برف کے خانے سے نیچے فریج میں کھانے رکھ لیں اور انہیں کچھ گھنٹوں بعد پتیلی یا فرائنگ پین میں پگھلائیں گرم کریں۔

گھریلو سطح پر اس طرح تدابیر اختیار کرکے موثر ترین کوالٹی کنٹرول کی جا سکتی ہے تاکہ آپ کا کنبہ ذرا سی بے احتیاطی سے زہر خورانی کا شکار نہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

فضائی آلودگی بال گرنے کا سبب بن سکتی ہے

20-05-2022
کراچی فریئر روڈ

صرف ہمارے ملک میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں لوگ گرتے ہوئے بالوں کی پریشانی میں مبتلا ہیں۔ امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں 50سال سے زائد عمر کے 85فیصد مرد حضرات بال گرنے کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں کروڑوں خواتین اینڈوجینک ایلوپیشیا کی وجہ سے بال جھڑنے کی بیماری میں مبتلا ہورہی ہیں ۔ اس بیماری کے باعث مردوں میں سر کے سامنے کی طرف گنج پن ہوتا ہے جبکہ عورتوں میں وقت گزرنے کے ساتھ ہیئر لائن’M‘ کی شکل بنانے لگتی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق، فضائی آلودگی بالوں کے جھڑنے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس تحقیق کے دوران انسانی کھوپڑی کے خلیوں پر دھول اور ایندھن کے ذرات کے اثرات کی جانچ کی گئی۔ محققین نے دریافت کیا کہ عام آلودگیوں کے مقابلے میں فضائی آلودگی نے بالوں کی نشوونما اور انہیں برقرار رکھنے کے ذمہ دار پروٹینز کی چارسطحوں کو کم کردیا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہےکہ جب ہوا سے پیدا ہونے والے ذرات کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے تواس کا اثر بھی بڑھ جاتاہے۔ تحقیق سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ صنعتی شہروں یا کارخانوں کے قریب رہنے والے افراد میں بال گرنے کا خطرہ زیادہ ہے۔

آلودگی کا سامنا کرنے سے کن مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے

فضائی آلودگی کینسر، دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کے خطرے کو پہلے ہی ظاہر کرتی رہی ہے اور ایک تخمینے کے مطابق اس سے ہرسال 42لاکھ اموات قبل ازوقت ہو جاتی ہیں۔ فضائی آلودگی کا یہ عنصر ڈپریشن اور والدین بننے کی صلاحیت میں کمی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ جنوبی کوریا کی کاسمیٹکس کمپنی کی مالی اعانت سے منعقد کردہ ایک اسٹڈی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہوا سے پیدا ہونے والی آلودگی اور بالوں کے جھڑنے کے مابین تعلق تلاش کرنے والے پہلی اسٹڈی ہے۔

تاہم، اسپین کے شہر میڈرڈ میں 28ویں یورپین اکیڈمی آف ڈرماٹولوجی اینڈ وینریولوجی کانگریس میں اس اسٹڈی کے سرکردہ محقق ہیوک چُل ووک کا اس کے نتائج کے بارے میں کہنا تھا، ’’لیبارٹری کے باہر اِن نتائج کی تصدیق کیلئے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، دراصل ہماری تحقیق سائنسی نقطہ نظر سے دیکھتی ہے کہ جب بالوں کے نیچے موجود کھوپڑی کے خلیوں کو فضائی آلودگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ان پر کیا اثر پڑتاہے ؟ یہ تحقیق چونکہ لیبارٹری میں کی گئی تھی، لہٰذا مزید تحقیق کے ذریعے اس کی سمت متعین کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پتہ لگایا جاسکے کہ لوگوں کو روز مرہ کی آلودگی کا سامنا کرنے سے کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘‘

انسانی کھوپڑی اوربالوں کی نشوونما

اس تحقیق میں انسانی کھوپڑی کے10مائیکرو میٹر یا اس سے کم ڈایا میٹر میں موجود خلیوں کو پرکھا گیا تاکہ ان میں ڈیزل کی موجودگی کا پتہ چلایا جاسکے۔ اس کے علاوہ محققین نے خلیوں میں پروٹین کی سطح کا پتہ لگانے کے لئے بھی ایک سائنسی تکنیک استعمال کی، جسے ویسٹرن بلوٹنگ (Western Blotting) کہا جاتا ہے۔ مشاہدے کے دوران محققین کو کھوپڑی کے خلیوں میں بیٹا کیٹنن (Beta-catenin) کی سطح میں کمی، بالوں کی نشوونما میں شامل ایک پروٹین اور بالوں کی جڑ کے سوراخ کی نشوونما میں تنزلی نظر آئی۔

ہیوک چُل کے مطابق،’’جب انسانی کھوپڑی کے خلیوں کو فوسِل ایندھن (ڈیزل وغیرہ) جلانے سے پیدا ہونے والی عام فضائی آلودگیوں کا سامنا کرنا پڑا تو بالوں کی افزائش اور بالوں کو برقرار رکھنے کے ذمہ دار خلیوں میں موجود پروٹینز نمایاں طور پر کم ہوگئے تھے یعنی خلیوں کو جس قدر زیادہ آلودگی کا سامنا کرنا پڑا، اس کا اثر اتنا ہی زیادہ ہوا۔ لہٰذا، نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ جزوی طور پر فضائی آلودگی بالوں کے گرنے کا سبب ہو سکتی ہے‘‘۔

بالوں کی نشوونما اور انہیں برقرار رکھنے کے لیے ذمہ دار تین دیگر پروٹینز، سائکلن ڈی1(Cyclin D1)، سائکلن ای(Cyclin E) اور سی ڈی کے2 (CDK2) بھی متاثر ہوتے نظر آئے۔ اس وقت تو ان پروٹینز میں اور بھی کمی نظر آئی جب ان کا سامنا زیادہ آلودگی سے ہوا۔ بالوں کی جڑ کھوپڑی کے جس سوراخ میں ہوتی ہے، اسے فولیکل (follicle) کہتے ہیں۔ یہاں مخصوص خلیے پائے جاتے ہیں، انہیں ہیومن فولیکل ڈرمل پپیلا سیل (HFDPC)کہا جاتاہے۔ ہوا میں موجود مختلف ذرات نہ صرف فولیکل بلکہ ان میں موجود خلیوں اور پروٹینز پر بھی اثر انداز ہو رہے تھے۔

بال گرنے کی وجوہات

تحقیق میں صنف یا عمر کے حوالے سے بالوں کے جھڑنے میں کسی بھی ممکنہ اختلاف پر غور نہیں کیا گیا، تاہم ماہرینِ گنج پن نے بال گرنے یا گنج پن کی وجوہات میں جینیاتی کیفیات اور موروثی اثرات کے ساتھ فضائی آلودگی کو بھی شامل کرلیا ہے۔

اس ضمن میں ہاتھ بٹانے کیلئے لوگوں کو نقل و حمل کیلئے کم آلودگی پھیلانے والی ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے نہ صرف شہر صاف ستھرے اور صحت مند رہیں گے بلکہ موسمی تباہیوں کی وجہ بننے والے عوامل میں بھی کمی آئے گی‘‘۔

فرینڈز آف دی ارتھ نامی این جی او کے پلیٹ فارم سے فضائی آلودگی کے خلاف مہم چلانے والی جینی بیٹس کا کہناہے، ’’یہ سائنسی ثبوتوں کا ایک طویل سلسلہ ہے جو ہمارے جسموں اور صحت پر فضائی آلودگی کے پریشان کن اثرات کو ظاہر کررہا ہے۔ حکومتوں کو صحت عامہ کے اس بحران سے نمٹنے کے لئے درکار قوت کے ساتھ فوری طورپر کام کرنا چاہئے.

اپنا تبصرہ بھیجیں

ہیٹ اسٹروک سے بچنے کیلئے کونسی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں

بدھ 18 مئی 2022
کراچی ،فریئر روڈ 123karachi.com
ہیٹ ویو میں عمومی درجہ حرارت5ڈگری ذیادہ ہو جاتا ہے۔رواں برس مئی میں شدید گرمی اور حبس سےملک بھر میں درجہ حرارت 40 ڈگری سے ذیادہ اور سندھ میں 50ڈگری تک پہنچا ہے۔ ۱۲۲سال کا رکارڈ ٹوٹا ہے۔ شدید گرمی اور حبس کی /وجہ سے ہیٹ اسٹروک شدید نقصان کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ہمارے جسم کا درجہ حرارت36.8 C  ہےلیکن جیسے جیسے جسم کا درجہ حرارت گرم ہوتا ہے خون کی نالیاں کھلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس سے فشارِ خون میں کمی واقع ہوتی ہے اور دل کو جسم میں خون پہنچانے کے لیے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔
ماہرین نے شہریوں کو ہیٹ اسٹروک سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے

۔ ماہرین کے مطابق ہیٹ اسٹروک کی وجوہات میں گرم اور خشک موسم، شدید گرمی میں پانی پیئے بغیر محنت و مشقت یا ورزش کرنا، جسم میں پانی کی کمی، پیاس کا بڑھ جانا،دھوپ میں براہ راست زیادہ دیر رہناشامل ہے۔
کم فشارِ خون کی وجہ سے لو بھی لگ سکتی ہے جس کی علامات یہ ہیں:
سر چکرانا، بے ہوش ہونا، الجھن کا شکار ہونا، متلی آنا، پٹھوں میں کھچاؤ محسوس کرنا، سر میں درد ہونا، شدید پسینہ آنا، تھکاوٹ محسوس کرنا۔
ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کی اہم تدابیر
گرمیوں میں ہیٹ اسٹروک کے امکانات ہوتے ہیں چنانچہ اس سے بچنے کےلئے تدابیر بھی اپنانی چاہیے تاکہ ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔خود بھی اور اپنے بچوں کو بھی ان احتیاط کے ساتھ باہر بھیجیں اور نکلیں۔
جب موسم بہت زیادہ گرم ہو تو بہتر ہے کہ کم از کم گھر سے باہر نکلیں
اگر ممکن ہو تو  باہر کے کام دن کے ٹھنڈے اوقات میں کرنے کی کوشش کریں یعنی علی الصبح یا سورج غروب ہونے کے بعد۔ہیٹ ویو سے بچنے کیلئے لوگوں کو صبح10سے شام 4 بجے تک غیر ضروری طور پر باہر نہیں نکلنا چاہئے ، اگر گھر سے باہر جانا ضروری ہو تو کوشش کریں کہ سر ڈھانپ کر نکلیں ۔
چھتری کا استعمال
سورج سے بچنے کے لیے چھتری کا استعمال ضرور کریں۔دھوپ میں کالے رنگ کی چھتری کے استعمال سے ۹۰ فیصد گرمی سے بچاتی ہےجبکہ رنگین چھتری۷۵سے ۷۰تک بچا تی ہے ۔

پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال
چونکہ گرمی سے متعلق بیماری نمکیات کی کمی کے نتیجے میں بھی ہو سکتی ہے۔ پسینہ بہنے کی وجہ سے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی واقع ہونے کی وجہ سے جسم میں ان کا توازن بدل جاتا ہے۔ پانی کی کمی کا شکار شخص گرمی کو ختم کرنے کے لیے اتنی تیزی سے پسینہ نہیں نکال سکتا، جس کی وجہ سے جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔زیادہ سے زیادہ پانی پینا عادت بنائیں۔ پانی ہر وقت اپنے ساتھ رکھیں اور وقفے وقفے سے پیتے رہیں۔روزانہ کم از کم تین لیٹر پانی تو لازمی پینا چاہیے، خاص طور پر پانی کے ذریعے اپنے جسم میں نمکیات اور پانی کا توازن برقرار رکھنا چاہیےاور ساتھ ہی اگر او آر ایس ملا لیں تو زیادہ بہتر ہو گا تاکہ جسم میں نمکیات اور پانی کی کمی با آسانی پوری ہو جائے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کھیرے کا جوس، ناریل کا پانی، لیموں کا جوس کا استعمال کرنا چاہیے۔
پیشاب کی رنگت کو نظر میں رکھیں
اگر اس کی رنگت گہری ہو تو یہ جسم میں پانی کی کمی کی ایک نشانی ہے جبکہ ہلکا زردیا شفاف رنگ جسم میں پانی کی مناسب مقدار کا عندیہ دیتا ہے۔نمکیات کی کمی سے گردوں کو خون کی سپلائی متاثر ہوتی ہے۔ہیٹ اسٹروک کو فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ علاج نہ کیے جانے والے ہیٹ اسٹروک آپ کےجسم کے بڑے آرگن دماغ، دل، گردوں،جگر آنتوں ، معدہ کو تیزی سے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ خون میں نمکیات کی کمی سے پٹھوں میں درد ہو تا ہے
علاج میں تاخیر ہونے سے نقصان مزید بڑھ جاتا ہے، جس سے آپ کے سنگین پیچیدگیوں یا موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ہلکے اور نرم کپڑے پہنیں
ڈھیلے اور ہلکے رنگوں کے ملبوسات کاٹن جیسے ہوا دار کپڑے پہنیں، تاکہ پسینہ سوکھ جائے۔ ہلکا پھلکا، ہلکے رنگ کا، ڈھیلا ڈھالا لباس پہنیں، سیاہ یا گہرے رنگ کے کپڑوں کا استعمال ہرگز نہ کریں۔کالے اور شوخ رنگ گرمی کو جذب کرتے ہیں اور آپ کے جسم میں منتقل کر دیتے ہیں۔
جب ہیٹ انڈیکس زیادہ ہو اور اگر آپ کو باہر جانا ضروری ہے، تو آپ یہ اقدامات اٹھا کر ہیٹ اسٹروک سے بچ سکتے ہیں۔ لسی میں نمک شکر ملا کر یینا بھی بہت فائدے مند ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

دماغ کو بھرپور طاقت دینے والی اور یاداشت کو بہتر کرنے والی 5 خوراکیں

بدھ 18 مئی 2022
کراچی ،فریئر روڈ 123karachi.com

آج ہم ایسی 5 خوراکوں کے بارے میں بات کریںگے. جو دماغ کو طاقت بخشتی ہیں یاداشت کو بہتر بناتی ہیں اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بھی بہتر کرتی ہیں.

1: میوہ جات ( Nuts )
ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ بادام اور اخروٹ کو بچوں کی خوراک کا حصہ بنانا چاہیئے ، ان سے بچوں کے زہنی ،دماغی سوچنے سمجھنے کی طاقت اور قابلیت میں اضافہ ہوتا ہے، اور اب سائنس نے بھی ثابت کیا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ جو میوہ جات ہوتے ہیں اور خصوصی طور پہ یہ جو اخروٹ ( Walnuts)ہوتے ہیں انکے اندر ایک خاص قسم کا اومیگا 3 فیٹی ایسڈ ہوتا ہے جس کو ہم (ALA)یعنی الفالینولینیک ایسڈ ( Alpha linolenic acid ) یہ الفالینولینیک ایسڈ ہمارے دماغ میں بیٹا املوئیڈ پروٹین (Beta Amyloid Proteins )بننے سے روکتا ہے.یہ وہ پروٹین ہے جو کہ ذہنی مریضوں کے دماغ میں پایا جاتا ہے مثلاجو الزائیمرز کے مریض ہوتے ہیں ، دوسری جانب اخروٹ ہماری خون کی نالیوں اور باقی دل کی بیماریوں کے خلاف بہت اچھا کام کرتا ہے.

2 ہری سبزیاں (Green Vegetables)
ہری سبزیاں بھی ذہنی صحت کے لیئے بہترین ہیں اور با آسانی گھروں میں بنائی جاتی ہیں ، ہری سبزیوں میں شامل وٹامن کے Vitamin K, لوٹین Lutein , فولئیٹ Folate ,بیٹا کاروٹین Beta Carotene ہوتی ہے جو کہ ہماری دماغی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیئے مفید ہوتے ہیں .

3: مچھلی (Fish )
مچھلی کے بارے میں تو مشہور ہے, کہ مچھلی میں پایا جانے والا اومیگا 3 فیٹی ایسڈ (Omega 3 Fatty Acid ) کافی ذیادہ مقدار میں ہوتا ہے، جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ اومیگا 3 (Beta Amyloid Proteins ) بننے سے روکتا ہے . کچھ لوگ مچھلی کھانے سے گریز کرتے ہیں انکے لیے السی کے بیج ( ٍFalx seeds) اخروٹ (walnuts ) اواکاڈو( Avacado)کا پھل ہے جس میں اومیگا 3 پایا جاتا ہے.

4:بیریز (Berries )
اسٹرابیری میں جو گلابی رنگ ہوتا ہے وہ اس میں پائے جانے والے اجزاء فلاونوئیڈ (Flavonoids ) کی وجہ سے ہے. یہ ہی اجزاء ہیں جن کی مدد سے دماغی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں مدد ملتی ہے.

5: چائے اور کافی ( Tea & coffee )
سروے سے ثابت ہوا کہ جہاں ذہنی استعمال ذیادہ ہوتا ہے وہاں چائے اور کافی کا استعمال ذیادہ ہوتا ہے
مثال کے طور پہ کسی یونیورسٹی کے ہوسٹل میں یا کسی آفس میں جہاں ڈیزائیننگ اور ریسرچ وغیرہ کا کام کیا جاتا ہو وہاں چائے اور کافی بہت پی جا رہی ہوتی ہے. اس کے مقابلے میں اگر کسی پہلوانوں کے اکھاڑے میں جا کر دیکھیں تو وہ لوگ دودھ لسی کا استعمال زیادہ کرتے ہیں کیونکہ انکو ذہنی نہیں جسمانی صحت درکار ہوتی ہے . چائے اور کافی نہ صرف وقتی طور پر آپ کی ذہنی طاقت کو بڑھاتی ہیں بلکہ دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ کافی کا استعمال ذیادہ کرتے ہیں ان میں چیزوں کو سمجھنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہےاور عمر کے ساتھ ساتھ جو سوچنے سمجھنے میں کمی آتی ہے اسکی رفتار کو بھی چائے کافی کم کرتی ہے.

نوٹ : اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں اگر آپ کو کسی چیز کے استعمال سے الیرجی ہے یا اپکو کوئی چیز موافق نہ آتی ہو .

اپنا تبصرہ بھیجیں