کامیاب زندگی کے پانچ لازمی اصول

بہت سے لوگ کہتے ہیں جو امیر ہیں سب قسمت کا کھیل ہے۔ایسا نہیں کیونکہ
successful people believe in coaches , while the unsuccessful people knows them blaming
کیا آپ جانتے ہیں سب سے انویسٹمنٹ کی ضرورت آپ کو ہے۔ investing  in yourself ۔
زندگی کے سفر میں کامیابی تجربے سے نہیں نالج سے ملتی ہے۔ کیا کرنے سے کامیابی ملتی ہے۔ آپ کی زندگی بدلنے کے لئے پانچ کامیابی کے اصول ہیں۔ ان اصولوں پر عمل کر کےکامیاب لوگوں نےاپنی زندگی بدلی۔
 
Start your carrier as early as possible-1
جتنی جلدی ہو سکے اپنا کیرئیرشروع کریں۔If you want to become successful and your are a teenager your time start now اگر آپ کی عمر۷ ۱یا ۱۶ سال ہےتو آپ اپنا کیرئیرشروع کریں کیونکہ بزنس setup کرنے کے لئے آپ کو کم سے کم ۷سے ۵ سال لگیں گے تو ۲۵ سال کی عمر میں جا کے آپ کا میاب ہونگے۔
آپ جانتے ہیں  Warren Buffett نے اپنا کیرئیر11 سال کی عمر میں شروع کیا ، پہلی انویسٹمنٹ کی جو کہ دنیا کے پانچ امیر لوگو ں میں سے ہیں۔Virgin Atlantic کے مالک Richard Bransonنے اپنا کیرئیر16سال کی عمر میں شروع کیا ۔جب کہ Elon Musk  نے اپنا پہلا  software  ۱۲سال کی عمر میں پیش کیا۔

Fail quickly but keep moving-2
یہ سچ ہے کہ جو early beginnings  وہ  ۱۰۰ فیصدفیل ہونے والے ہیںکیونکہ ابھی آپ کے پاس نہ skill اور نہ market  knowledge  ہے، ہو سکتا ہے کوئی mentor بھی نہ ہو جو آپ کو بچاسکے۔ آپ اس عمر میں جتنی انفارمیشن اکھٹی کر سکتے ہیں کریں اور کنورٹ کرو اس کو ایکشن میں ۔ مارکٹ میں چیلنج فیس کریں تو سمجھ لیں کہ مارکٹ آپ کا ٹیسٹ لے رہی ہے۔ڈرنا نہیں ہے۔ failure is the part of journey ۔

Educate Yourself-3
ہر ملینر ، بلینرکے لئے ضروری ہے  Educate Yourself ۔ سیکھتے رہے کتابیں پڑھیں، انٹرویوز پڑھئے، کیس اسٹیڈی پڑھیں، تجزیہ کریں دوسرے لوگوں کے بزنس کا۔ہر چیز جو آپ کو بلڈ کرے سیکھتےرہیے،جانتے ہیں ۸۰ فیصد فار سیلف انفارمیشن فری میں مل جاتی ہے، انفارمیشن اکھٹا کر کے اپنی زندگی پر لگائیے۔ سیکھئےاور آگے بڑھئے۔

Sacrifice Social Life-4. غربت اور غریبی سے نجات پانے کے لئے یہ قیمت آپ کو دینی ہی ہوگی۔آپ کے جو شروعاتی سال ہیں اس میں آپ کو سوشل لائف کو بائیکاٹ کرنا ہوگا۔اگر آپ ایک ہفتے میں صرف ۴۰ گھنٹے کام کرتے ہیں تو یہ نا کافی ہونگےآپ ایک عام زندگی جیتے ہیں۔ اور اگر آپ کے ورکنگ ٹائم ۱۰۰ گھنٹے ہے تو یہ آپ کواچھی لائف دے گا۔آپ ۱۰۰ گھنٹے اسی صورت کام کر سکتے ہیں جب آپ سوشل لائف کی قربانی دیں۔ صرف اور صرف فوکس کرنا اپنے کیرئیر اور اپنے گول کے اوپر فوکس کریں ۔

Surround yourself with highly successfully people at any cost-5
اپنے ارد گرد لوگوں کو تلاشئیے، کوئی ایسی ایسوسیئشن تلاشئیےجہاں پراردگرد کے لوگ کے پاس آئیڈیاز ہوں،اینرجیٹک ہوں۔ ان سب کی ایسوسیئشن آپ کمال کر جائیں گے۔
Being with a winner makes you a winner while Being with a loser will make you a loser

اگر آپ نے یہ پانچ پرنسپل اپنے اوپرامپلیمنٹ کر لیے،تو یہ سال آپ کی زندگی کا خوبصورت سال ہونے والا ہے۔  

اپنا تبصرہ بھیجیں

کرپٹو کرنسی کی قیمتیں

Top cryptocurrency trends

# $BTC -61%
# $ETH -64%
# $BNB -67%
# $XRP -82%
# $ADA -86%
# $SOL -85%
# $DOGE -90%
# $DOT -86%
# $AVAX -84%
# $TRX -71%
# $SHIB -89%
# $MATIC -82%
# $LTC -86%
# $FTT -69%
# $NEAR -73%
# $UNI -91%
# $LINK -89%
# $ATOM -80%
# $XLM -86%
# $VET -91%

اپنا تبصرہ بھیجیں

کراچی سمیت پورے صوبے میں یں جلسے جلوسوں پر پابندی

کراچی: محکمہ داخلہ سندھ نے کراچی سمیت صوبے بھر میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144نافد کر دی۔

صوبے بھر میں جلسے، جلوس، ریلیوں اور عوامی اجتماعات پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 144 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

زہر خورانی یعنی فوڈ پوائزننگ

کراچی فریئر روڈ
ہفتہ 21 مئی 2022

ہمارے کرہ ارض پر آلودگی کہاں نہیں ہے؟ماحولیاتی آلودگی کو دور کرنے کیلئے اقدامات کئے جاتے ہیں مگر جن غذاؤں میں بیکٹیریا،وائرس اور جراثیم یا زہریلے مادے شامل ہو جائیں ان کا خیال رکھنا آسان نہیں۔آئیے فوڈ پوائزننگ کی وجہ جاننے کی کوشش کریں۔

کیا آپ کے یا بچوں کے پیٹ میں درد ہو،متلی ہو جائے یا اسہال کی تکلیف ہو اور بخار ہو جائے تو سادہ سی درد کش دوا کھانے سے آرام آ جاتا ہے؟
ہر گز نہیں آپ غور کیجئے آپ نے کیا کھایا تھا؟کوئی غیر محفوظ کھانا آدھا پکا ہوا انڈا یا گوشت کبھی کبھی مرغی بھی یا زیادہ پکے ہوئے پھل اور پرانی سبزیاں؟دراصل ان غذاؤں میں جراثیم مثلاً سالمونیلا،ای کولی اور ہیسٹریا مل گئے ہوتے ہیں جو زہر خورانی یعنی فوڈ پوائزننگ کا سبب بنتے ہیں۔

ماہرین طب کہتے ہیں کہ بعض غذاؤں میں پروسیسنگ کے دوران یا کھانے کی پیداوار کے عمل کے دیگر مراحل کے دوران ان میں آلودگی شامل ہو سکتی ہے۔

زائد العمر افراد اور پانچ برس سے کم عمر بچے اس وجہ سے سنگین بیمار ہو سکتے ہیں۔ان کے جسم میں جراثیم اور بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت مختلف وجوہ کی بنا پر اتنی موثر نہیں ہوتی 65 برس سے زائد افراد کو خطرہ اس لئے ہوتا ہے کیونکہ بڑھتی عمر کے ساتھ ان کے مدافعتی نظام اور اعضا کمزور پڑنے لگتے ہیں اور اسی طرح چھوٹے بچوں کے مدافعتی نظام ابھی زیر نمو ہوتے ہیں اس لئے ان کے جسم کی بیماریوں اور جراثیم سے لڑنے کی صلاحیت اتنی بہتر نہیں ہوتی۔

ای کولی لیسٹریا ایسا خطرناک جراثیم ہے جس کی تشخیص بروقت نہ ہو یا علاج بروقت نہ ہو تو گردے ناکارہ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

فوڈ پوائزننگ سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
طبی ماہرین حفاظتی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ گھروں میں صفائی ستھرائی،غذاؤں کو قدرے فاصلے پر محفوظ کرنا اور درست درجہ حرارت پر پکانا اور پکانے کے بعد کمرے کے درجہ حرارت پر غذاؤں کو ٹھنڈا کرکے فریج میں محفوظ کر دینا ضروری ہے۔
فوڈ پوائزننگ کا سبب بننے والے جراثیم بہت سی جگہوں پر زندہ رہ سکتے ہیں اور ہمارے کچن میں اردگرد پھیل بھی سکتے ہیں اس لئے برتنوں،کٹنگ بورڈز اور کاؤنٹر ٹاپس کو جراثیم کش محلول سے صاف کرتے رہنا ضروری ہے۔بار بار یعنی ہر کام کے بعد اینٹی بیکٹیریا صابن سے ہاتھ دھونا بہتر ہے۔تازہ پھلوں اور سبزیوں کو بہتے ہوئے پانی میں دھو کر محفوظ کریں۔
کچا گوشت،مرغی،سمندری غذائیں اور انڈے بہتر یہی ہے دھو کر (سر کے ساتھ) اس جگہ رکھیں جہاں تیار پکے ہوئے کھانے نہ رکھے ہوں یا فاصلے پر رکھیں۔
گوشت،مرغی اور مچھلی کے لئے علیحدہ کٹنگ بورڈ رکھا جائے تو اچھا ہے۔
شاپنگ کے دوران جب تمام گروسری لے چکیں تو تازہ گوشت،قیمے یا مرغی وغیرہ آخر میں خریدیں اور انہیں علیحدہ شاپر میں اور گاڑی میں بھی فاصلے پر رکھیں۔

ہمارے یہاں فوڈ تھرما میٹر استعمال کرنے کا رجحان کم ہی ہے لیکن اگر ہو تو اچھا ہے۔
بچھیا،بکرے اور مچھلی کو 145F پر پکانا بہتر رہتا ہے۔بڑے جانور کا گوشت 160F پر پکانا بہتر رہتا ہے۔دن بھر یا دو گھنٹے سے زائد عرصے تک ہنڈیا کا محفوظ نہ کرنا یعنی فریج میں نہ رکھنا اسے Danger Zone میں رکھنے کے مترادف ہے۔
بہت سی خواتین فریز کئے گئے کھانے کو کاؤنٹر پر رکھ کر پگھلاتی ہیں اور پھر چولہوں پر گرم کرتی ہیں ہونا یہ چاہئے کہ آپ فریزر سے یعنی برف کے خانے سے نیچے فریج میں کھانے رکھ لیں اور انہیں کچھ گھنٹوں بعد پتیلی یا فرائنگ پین میں پگھلائیں گرم کریں۔

گھریلو سطح پر اس طرح تدابیر اختیار کرکے موثر ترین کوالٹی کنٹرول کی جا سکتی ہے تاکہ آپ کا کنبہ ذرا سی بے احتیاطی سے زہر خورانی کا شکار نہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

فضائی آلودگی بال گرنے کا سبب بن سکتی ہے

20-05-2022
کراچی فریئر روڈ

صرف ہمارے ملک میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں لوگ گرتے ہوئے بالوں کی پریشانی میں مبتلا ہیں۔ امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں 50سال سے زائد عمر کے 85فیصد مرد حضرات بال گرنے کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں کروڑوں خواتین اینڈوجینک ایلوپیشیا کی وجہ سے بال جھڑنے کی بیماری میں مبتلا ہورہی ہیں ۔ اس بیماری کے باعث مردوں میں سر کے سامنے کی طرف گنج پن ہوتا ہے جبکہ عورتوں میں وقت گزرنے کے ساتھ ہیئر لائن’M‘ کی شکل بنانے لگتی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق، فضائی آلودگی بالوں کے جھڑنے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس تحقیق کے دوران انسانی کھوپڑی کے خلیوں پر دھول اور ایندھن کے ذرات کے اثرات کی جانچ کی گئی۔ محققین نے دریافت کیا کہ عام آلودگیوں کے مقابلے میں فضائی آلودگی نے بالوں کی نشوونما اور انہیں برقرار رکھنے کے ذمہ دار پروٹینز کی چارسطحوں کو کم کردیا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہےکہ جب ہوا سے پیدا ہونے والے ذرات کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے تواس کا اثر بھی بڑھ جاتاہے۔ تحقیق سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ صنعتی شہروں یا کارخانوں کے قریب رہنے والے افراد میں بال گرنے کا خطرہ زیادہ ہے۔

آلودگی کا سامنا کرنے سے کن مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے

فضائی آلودگی کینسر، دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کے خطرے کو پہلے ہی ظاہر کرتی رہی ہے اور ایک تخمینے کے مطابق اس سے ہرسال 42لاکھ اموات قبل ازوقت ہو جاتی ہیں۔ فضائی آلودگی کا یہ عنصر ڈپریشن اور والدین بننے کی صلاحیت میں کمی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ جنوبی کوریا کی کاسمیٹکس کمپنی کی مالی اعانت سے منعقد کردہ ایک اسٹڈی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہوا سے پیدا ہونے والی آلودگی اور بالوں کے جھڑنے کے مابین تعلق تلاش کرنے والے پہلی اسٹڈی ہے۔

تاہم، اسپین کے شہر میڈرڈ میں 28ویں یورپین اکیڈمی آف ڈرماٹولوجی اینڈ وینریولوجی کانگریس میں اس اسٹڈی کے سرکردہ محقق ہیوک چُل ووک کا اس کے نتائج کے بارے میں کہنا تھا، ’’لیبارٹری کے باہر اِن نتائج کی تصدیق کیلئے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، دراصل ہماری تحقیق سائنسی نقطہ نظر سے دیکھتی ہے کہ جب بالوں کے نیچے موجود کھوپڑی کے خلیوں کو فضائی آلودگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ان پر کیا اثر پڑتاہے ؟ یہ تحقیق چونکہ لیبارٹری میں کی گئی تھی، لہٰذا مزید تحقیق کے ذریعے اس کی سمت متعین کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پتہ لگایا جاسکے کہ لوگوں کو روز مرہ کی آلودگی کا سامنا کرنے سے کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘‘

انسانی کھوپڑی اوربالوں کی نشوونما

اس تحقیق میں انسانی کھوپڑی کے10مائیکرو میٹر یا اس سے کم ڈایا میٹر میں موجود خلیوں کو پرکھا گیا تاکہ ان میں ڈیزل کی موجودگی کا پتہ چلایا جاسکے۔ اس کے علاوہ محققین نے خلیوں میں پروٹین کی سطح کا پتہ لگانے کے لئے بھی ایک سائنسی تکنیک استعمال کی، جسے ویسٹرن بلوٹنگ (Western Blotting) کہا جاتا ہے۔ مشاہدے کے دوران محققین کو کھوپڑی کے خلیوں میں بیٹا کیٹنن (Beta-catenin) کی سطح میں کمی، بالوں کی نشوونما میں شامل ایک پروٹین اور بالوں کی جڑ کے سوراخ کی نشوونما میں تنزلی نظر آئی۔

ہیوک چُل کے مطابق،’’جب انسانی کھوپڑی کے خلیوں کو فوسِل ایندھن (ڈیزل وغیرہ) جلانے سے پیدا ہونے والی عام فضائی آلودگیوں کا سامنا کرنا پڑا تو بالوں کی افزائش اور بالوں کو برقرار رکھنے کے ذمہ دار خلیوں میں موجود پروٹینز نمایاں طور پر کم ہوگئے تھے یعنی خلیوں کو جس قدر زیادہ آلودگی کا سامنا کرنا پڑا، اس کا اثر اتنا ہی زیادہ ہوا۔ لہٰذا، نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ جزوی طور پر فضائی آلودگی بالوں کے گرنے کا سبب ہو سکتی ہے‘‘۔

بالوں کی نشوونما اور انہیں برقرار رکھنے کے لیے ذمہ دار تین دیگر پروٹینز، سائکلن ڈی1(Cyclin D1)، سائکلن ای(Cyclin E) اور سی ڈی کے2 (CDK2) بھی متاثر ہوتے نظر آئے۔ اس وقت تو ان پروٹینز میں اور بھی کمی نظر آئی جب ان کا سامنا زیادہ آلودگی سے ہوا۔ بالوں کی جڑ کھوپڑی کے جس سوراخ میں ہوتی ہے، اسے فولیکل (follicle) کہتے ہیں۔ یہاں مخصوص خلیے پائے جاتے ہیں، انہیں ہیومن فولیکل ڈرمل پپیلا سیل (HFDPC)کہا جاتاہے۔ ہوا میں موجود مختلف ذرات نہ صرف فولیکل بلکہ ان میں موجود خلیوں اور پروٹینز پر بھی اثر انداز ہو رہے تھے۔

بال گرنے کی وجوہات

تحقیق میں صنف یا عمر کے حوالے سے بالوں کے جھڑنے میں کسی بھی ممکنہ اختلاف پر غور نہیں کیا گیا، تاہم ماہرینِ گنج پن نے بال گرنے یا گنج پن کی وجوہات میں جینیاتی کیفیات اور موروثی اثرات کے ساتھ فضائی آلودگی کو بھی شامل کرلیا ہے۔

اس ضمن میں ہاتھ بٹانے کیلئے لوگوں کو نقل و حمل کیلئے کم آلودگی پھیلانے والی ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے نہ صرف شہر صاف ستھرے اور صحت مند رہیں گے بلکہ موسمی تباہیوں کی وجہ بننے والے عوامل میں بھی کمی آئے گی‘‘۔

فرینڈز آف دی ارتھ نامی این جی او کے پلیٹ فارم سے فضائی آلودگی کے خلاف مہم چلانے والی جینی بیٹس کا کہناہے، ’’یہ سائنسی ثبوتوں کا ایک طویل سلسلہ ہے جو ہمارے جسموں اور صحت پر فضائی آلودگی کے پریشان کن اثرات کو ظاہر کررہا ہے۔ حکومتوں کو صحت عامہ کے اس بحران سے نمٹنے کے لئے درکار قوت کے ساتھ فوری طورپر کام کرنا چاہئے.

اپنا تبصرہ بھیجیں

ہیٹ اسٹروک سے بچنے کیلئے کونسی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں

بدھ 18 مئی 2022
کراچی ،فریئر روڈ 123karachi.com
ہیٹ ویو میں عمومی درجہ حرارت5ڈگری ذیادہ ہو جاتا ہے۔رواں برس مئی میں شدید گرمی اور حبس سےملک بھر میں درجہ حرارت 40 ڈگری سے ذیادہ اور سندھ میں 50ڈگری تک پہنچا ہے۔ ۱۲۲سال کا رکارڈ ٹوٹا ہے۔ شدید گرمی اور حبس کی /وجہ سے ہیٹ اسٹروک شدید نقصان کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ہمارے جسم کا درجہ حرارت36.8 C  ہےلیکن جیسے جیسے جسم کا درجہ حرارت گرم ہوتا ہے خون کی نالیاں کھلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس سے فشارِ خون میں کمی واقع ہوتی ہے اور دل کو جسم میں خون پہنچانے کے لیے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔
ماہرین نے شہریوں کو ہیٹ اسٹروک سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے

۔ ماہرین کے مطابق ہیٹ اسٹروک کی وجوہات میں گرم اور خشک موسم، شدید گرمی میں پانی پیئے بغیر محنت و مشقت یا ورزش کرنا، جسم میں پانی کی کمی، پیاس کا بڑھ جانا،دھوپ میں براہ راست زیادہ دیر رہناشامل ہے۔
کم فشارِ خون کی وجہ سے لو بھی لگ سکتی ہے جس کی علامات یہ ہیں:
سر چکرانا، بے ہوش ہونا، الجھن کا شکار ہونا، متلی آنا، پٹھوں میں کھچاؤ محسوس کرنا، سر میں درد ہونا، شدید پسینہ آنا، تھکاوٹ محسوس کرنا۔
ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کی اہم تدابیر
گرمیوں میں ہیٹ اسٹروک کے امکانات ہوتے ہیں چنانچہ اس سے بچنے کےلئے تدابیر بھی اپنانی چاہیے تاکہ ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔خود بھی اور اپنے بچوں کو بھی ان احتیاط کے ساتھ باہر بھیجیں اور نکلیں۔
جب موسم بہت زیادہ گرم ہو تو بہتر ہے کہ کم از کم گھر سے باہر نکلیں
اگر ممکن ہو تو  باہر کے کام دن کے ٹھنڈے اوقات میں کرنے کی کوشش کریں یعنی علی الصبح یا سورج غروب ہونے کے بعد۔ہیٹ ویو سے بچنے کیلئے لوگوں کو صبح10سے شام 4 بجے تک غیر ضروری طور پر باہر نہیں نکلنا چاہئے ، اگر گھر سے باہر جانا ضروری ہو تو کوشش کریں کہ سر ڈھانپ کر نکلیں ۔
چھتری کا استعمال
سورج سے بچنے کے لیے چھتری کا استعمال ضرور کریں۔دھوپ میں کالے رنگ کی چھتری کے استعمال سے ۹۰ فیصد گرمی سے بچاتی ہےجبکہ رنگین چھتری۷۵سے ۷۰تک بچا تی ہے ۔

پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال
چونکہ گرمی سے متعلق بیماری نمکیات کی کمی کے نتیجے میں بھی ہو سکتی ہے۔ پسینہ بہنے کی وجہ سے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی واقع ہونے کی وجہ سے جسم میں ان کا توازن بدل جاتا ہے۔ پانی کی کمی کا شکار شخص گرمی کو ختم کرنے کے لیے اتنی تیزی سے پسینہ نہیں نکال سکتا، جس کی وجہ سے جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔زیادہ سے زیادہ پانی پینا عادت بنائیں۔ پانی ہر وقت اپنے ساتھ رکھیں اور وقفے وقفے سے پیتے رہیں۔روزانہ کم از کم تین لیٹر پانی تو لازمی پینا چاہیے، خاص طور پر پانی کے ذریعے اپنے جسم میں نمکیات اور پانی کا توازن برقرار رکھنا چاہیےاور ساتھ ہی اگر او آر ایس ملا لیں تو زیادہ بہتر ہو گا تاکہ جسم میں نمکیات اور پانی کی کمی با آسانی پوری ہو جائے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کھیرے کا جوس، ناریل کا پانی، لیموں کا جوس کا استعمال کرنا چاہیے۔
پیشاب کی رنگت کو نظر میں رکھیں
اگر اس کی رنگت گہری ہو تو یہ جسم میں پانی کی کمی کی ایک نشانی ہے جبکہ ہلکا زردیا شفاف رنگ جسم میں پانی کی مناسب مقدار کا عندیہ دیتا ہے۔نمکیات کی کمی سے گردوں کو خون کی سپلائی متاثر ہوتی ہے۔ہیٹ اسٹروک کو فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ علاج نہ کیے جانے والے ہیٹ اسٹروک آپ کےجسم کے بڑے آرگن دماغ، دل، گردوں،جگر آنتوں ، معدہ کو تیزی سے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ خون میں نمکیات کی کمی سے پٹھوں میں درد ہو تا ہے
علاج میں تاخیر ہونے سے نقصان مزید بڑھ جاتا ہے، جس سے آپ کے سنگین پیچیدگیوں یا موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ہلکے اور نرم کپڑے پہنیں
ڈھیلے اور ہلکے رنگوں کے ملبوسات کاٹن جیسے ہوا دار کپڑے پہنیں، تاکہ پسینہ سوکھ جائے۔ ہلکا پھلکا، ہلکے رنگ کا، ڈھیلا ڈھالا لباس پہنیں، سیاہ یا گہرے رنگ کے کپڑوں کا استعمال ہرگز نہ کریں۔کالے اور شوخ رنگ گرمی کو جذب کرتے ہیں اور آپ کے جسم میں منتقل کر دیتے ہیں۔
جب ہیٹ انڈیکس زیادہ ہو اور اگر آپ کو باہر جانا ضروری ہے، تو آپ یہ اقدامات اٹھا کر ہیٹ اسٹروک سے بچ سکتے ہیں۔ لسی میں نمک شکر ملا کر یینا بھی بہت فائدے مند ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

دماغ کو بھرپور طاقت دینے والی اور یاداشت کو بہتر کرنے والی 5 خوراکیں

بدھ 18 مئی 2022
کراچی ،فریئر روڈ 123karachi.com

آج ہم ایسی 5 خوراکوں کے بارے میں بات کریںگے. جو دماغ کو طاقت بخشتی ہیں یاداشت کو بہتر بناتی ہیں اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بھی بہتر کرتی ہیں.

1: میوہ جات ( Nuts )
ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ بادام اور اخروٹ کو بچوں کی خوراک کا حصہ بنانا چاہیئے ، ان سے بچوں کے زہنی ،دماغی سوچنے سمجھنے کی طاقت اور قابلیت میں اضافہ ہوتا ہے، اور اب سائنس نے بھی ثابت کیا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ جو میوہ جات ہوتے ہیں اور خصوصی طور پہ یہ جو اخروٹ ( Walnuts)ہوتے ہیں انکے اندر ایک خاص قسم کا اومیگا 3 فیٹی ایسڈ ہوتا ہے جس کو ہم (ALA)یعنی الفالینولینیک ایسڈ ( Alpha linolenic acid ) یہ الفالینولینیک ایسڈ ہمارے دماغ میں بیٹا املوئیڈ پروٹین (Beta Amyloid Proteins )بننے سے روکتا ہے.یہ وہ پروٹین ہے جو کہ ذہنی مریضوں کے دماغ میں پایا جاتا ہے مثلاجو الزائیمرز کے مریض ہوتے ہیں ، دوسری جانب اخروٹ ہماری خون کی نالیوں اور باقی دل کی بیماریوں کے خلاف بہت اچھا کام کرتا ہے.

2 ہری سبزیاں (Green Vegetables)
ہری سبزیاں بھی ذہنی صحت کے لیئے بہترین ہیں اور با آسانی گھروں میں بنائی جاتی ہیں ، ہری سبزیوں میں شامل وٹامن کے Vitamin K, لوٹین Lutein , فولئیٹ Folate ,بیٹا کاروٹین Beta Carotene ہوتی ہے جو کہ ہماری دماغی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیئے مفید ہوتے ہیں .

3: مچھلی (Fish )
مچھلی کے بارے میں تو مشہور ہے, کہ مچھلی میں پایا جانے والا اومیگا 3 فیٹی ایسڈ (Omega 3 Fatty Acid ) کافی ذیادہ مقدار میں ہوتا ہے، جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ اومیگا 3 (Beta Amyloid Proteins ) بننے سے روکتا ہے . کچھ لوگ مچھلی کھانے سے گریز کرتے ہیں انکے لیے السی کے بیج ( ٍFalx seeds) اخروٹ (walnuts ) اواکاڈو( Avacado)کا پھل ہے جس میں اومیگا 3 پایا جاتا ہے.

4:بیریز (Berries )
اسٹرابیری میں جو گلابی رنگ ہوتا ہے وہ اس میں پائے جانے والے اجزاء فلاونوئیڈ (Flavonoids ) کی وجہ سے ہے. یہ ہی اجزاء ہیں جن کی مدد سے دماغی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں مدد ملتی ہے.

5: چائے اور کافی ( Tea & coffee )
سروے سے ثابت ہوا کہ جہاں ذہنی استعمال ذیادہ ہوتا ہے وہاں چائے اور کافی کا استعمال ذیادہ ہوتا ہے
مثال کے طور پہ کسی یونیورسٹی کے ہوسٹل میں یا کسی آفس میں جہاں ڈیزائیننگ اور ریسرچ وغیرہ کا کام کیا جاتا ہو وہاں چائے اور کافی بہت پی جا رہی ہوتی ہے. اس کے مقابلے میں اگر کسی پہلوانوں کے اکھاڑے میں جا کر دیکھیں تو وہ لوگ دودھ لسی کا استعمال زیادہ کرتے ہیں کیونکہ انکو ذہنی نہیں جسمانی صحت درکار ہوتی ہے . چائے اور کافی نہ صرف وقتی طور پر آپ کی ذہنی طاقت کو بڑھاتی ہیں بلکہ دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ کافی کا استعمال ذیادہ کرتے ہیں ان میں چیزوں کو سمجھنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہےاور عمر کے ساتھ ساتھ جو سوچنے سمجھنے میں کمی آتی ہے اسکی رفتار کو بھی چائے کافی کم کرتی ہے.

نوٹ : اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں اگر آپ کو کسی چیز کے استعمال سے الیرجی ہے یا اپکو کوئی چیز موافق نہ آتی ہو .

اپنا تبصرہ بھیجیں

Admit card نہ ملنے پرطلبہ کا احتجاج میٹرک بورڈ آفس کے باہر جاری۔

کراچی: بورڈ انتظامیہ کی غفلت کے باعث طلباء اور طالبات کا مستقبل داؤ پر لگ گیا۔ کراچی بورڈ کے زیر اہتمام میٹرک کے طلباء کا پہلا پرچہ آج لیا جارہا ہے تاہم کئی طلباء کو تاحال ایڈمٹ کارڈ نہیں ملے ہیں۔
طلبہ کا احتجاج میٹرک بورڈ آفس کے باہر جاری ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں

Law of attraction(خیالات کی طاقت) کو اپنی بہتری کے لیے کیسے استعمال کریں

ہفتہ 14مئی 2022
کراچی ، فریئر روڈ 123karachi.com

Law of attractionکو آرڈر کریں اور اپنے خواب پورے کریں:
ہم سب کی زندگیوں میں جو کچھ بھی عمل میں آتا ہے اچھا یا بر اسب (خیالات کی طاقت)Law of attractionکے ذریعے ہو تا ہے ۔ (خیالات کی طاقت) Law of attraction ہماری زندگی میں کیسے کام کرتا ہے آ پ کے دماغ میں جو ابھی چل رہا ہے آپ اسے اپنی زندگی میں attractionکر رہے ہیں ۔ یہ Lawکیسے کام کرتا ہے یہ دیکھنے کے لئے اپنی زندگی کے pastپر غور کر کے دیکھئے ،اگرآج جو پیسہ ، کامیابی،خوشی ، رشتے ، گھر ، گاڑی وغیرہ ہے آپ اسے attractionکر رہے تھے ۔آپ اپنی زندگی کی خوشیوں اور دکھوں کے لیئےخود ہی ذمہ دار ہیں۔ ہم اپنی زندگی خود ہی ڈیزائین کرتے ہیں۔بنیادی طور پر آپ اپنی زندگی کی کہانی کے خود ہی مصنف ہیں۔ زندگی تمام چیزیں ہماری سوچ پر منحصر کرتی ہے۔

اگر آپ (خیالات کی طاقت) Law of attractionسمجھ جائیں تو اپنی زندگی کو خوشیوں سے بھر سکتے ہیں۔
اسے ہم ایک زندگی کی مثال سے سمجھتے ہیں۔ یہ میری زندگی میں گذرے زمانے کی بات ہے، میں 1920ءکا کر کٹ ورلڈ کپ دیکھ رہا تھا ۔اس وقت میں کرکٹ کے بارے میں ذیادہ نہیں جانتا تھا۔ مگر میچ دیکھ کر interestبنناشروع ہو گیا۔اس کے بعد میں اپنے محلے کے کرکٹ میچ میں جانے لگا، جہاں بہت سارے لڑکے کرکٹ کھیتے تھے مگر سچ بتائوں تو اس وقت مجھے بال بھی پکڑنا نہیں آتا تھا۔ان لڑکوں کو کرکٹ کھلانے کی demandکرتاتو وہ مجھے ذیادہ تر میچ نہیں کھلاتے اور مجھے باہر ببیٹھا کر رکھتےکیونکہ انہیں لگتا تھا میں ایک بچہ ہوں اوریہ ہی سچائی بھی تھی۔یہاں (خیالات کی طاقت)Law of attraction نے میری زندگی میں ایسے کام کیئے ، میں باہر ببیٹھ کر سوچنے لگا کہ ایک دن میں اسی ٹیم کا کپتان بنوں گا اور یہ سارے پلیئرکپتانی میں میرے ساتھ کھیلیں گے۔یہ میرا ایک خواب تھا اور مجھے اس کے بارے میں کچھ نہیں معلوم تھا کہ یہ کیسے ہوگا ، میں اس کے لیے کیا کر سکتا ہوں کیونکہ جو ہمارے محلے کے لڑکے تھے وہ مجھے اپنے ساتھ کھلانا کب شروع کریں گے مجھے یہ تک نہیں معلوم تھا ، جب بھی میں گراﺅنڈاپنا خواب اپنے دماغ میں دھراتا تھا اور پھر باقی بچوں کی طرح کچھ اور کھیلنا شروع کر دیتا تھا۔ مگر اپنے محلے کے لڑکوں کو کھیلتا دیکھ کر میرا بھی کرکٹ کھیلنے کادل کرتا تھا۔ چناچہ میرے دماغ میں ایک آئیڈیا آیا کہ میں اپنی عمر کے بچوں کو اکھٹا کر کے اپنی ایک ٹیم بنالیتا ہوں ۔
Law of attraction (خیالات کی طاقت)کا پہلا فارمولاہے کہ جب بھی آپ کو کوئی آ ئیڈیا آئے تو آپ اس کے لیئےکا م کریں ۔ لہذامیں نے اپنے ایک کزن کے ساتھ مل کر اپنی ایک ٹیم بنا لی اور ہم چھوٹے بچے ایک الگ گراﺅنڈ میں کھیلنے لگے۔وقت گزرنے کے ساتھ ہماری بچوں کی ٹیم کافی strongہونے لگی اورہم دوسرے گراﺅنڈ کے بچوں کو اپنے گراﺅنڈ میں invite کرنے لگے اور سلسلہ چلنا شروع ہوگیا ، کئی بار ہم میچ ہار بھی جاتے اور جیت بھی جاتے۔
آپ سوچ رہے ہونگے یہاں (خیالات کی طاقت) Law of attraction کہاں کا م کر رہا ہے ، (خیالات کی طاقت)Law of attractionآہستہ آہستہ چیزوں کو ایک کر رہا تھا۔پھر میں اور میرے کزن نے انڈر 15ٹورنامنٹ کروانے کا پلان بنایا ۔ اس میں چار محلے کی ٹیمیں کھیلیں جیسا کہ میں نے پہلے ذکرکیا تھا (خیالات کی طاقت) Law of attraction میرے خواب کی تکمیل کے لیے کیسے چیزوں کو ایک کر رہا تھا، فائنل میچ والے دن ہمارے سارے بڑے پلیئر میچ دیکھنے کے لیے آئے تھے۔ score bookپر کچھ بڑی عمر کے لڑکے بھی تھے۔ جس کو دیکھتے ہوئے ہمارے محلے کے بڑے پلیئرنے اعتراض کیا کہ یہ چھوٹے بچوں کا ٹورنامنٹ ہے آپ ان کو کھیلنے دومگر مخالف ٹیم اس بات کو نہیں مانی تو ہوا کچھ یوں کہ ہماری ٹیم کے دو بڑے پلیئرجو سب سے اچھا کھیلتے تھے وہ ہماری ٹیم میں کھیلے اور فائنل شروع ہوااور ہم میچ جیت گئے۔
یہاں (خیالات کی طاقت) Law of attraction کا کام دیکھئے جو پلیئر مجھے اپنے پریکٹس میچ میں بھی نہیں کھلاتے تھے آ ج وہ پلیئر میری ٹیم میں میری کپتانی میں میرے ساتھ کھیلے تھے۔
Law of attraction (خیالات کی طاقت)نے مزید کام شروع کیا ہم نے چھ، سات کرکٹ ٹورنامنٹ کروائے ، ہر سنڈے میچ کھیلتے اور لگ بھگ سارے بڑے پلیئر کی ٹیم ہمارے ساتھ کھیلتی تھی۔میری کپتانی میں یہ سلسلہ دس سال تک چلتا رہا۔
میں (خیالات کی طاقت)Law of attractionکے بارے میں نہیں جانتا تھا جو میراخواب تھا وہ پورا ہوا۔جیسے (خیالات کی طاقت) Law of attractionنے میرے خواب کو پورا کرنے کے لےے پہلے ہی پلان بنا رکھا تھا۔
آپ یاد کریں تو آپ کی زندگی میں بھی آپ کے بہت سارے خواب پورے ہوئے ہونگے، جب آپ (خیالات کی طاقت) Law of attractionکو جانتے ہونگے ہی نہیں۔
یہ لاءآپ کے خواب (ٹارگٹ ) کی تکمیل کے لیے خود کام کرتا ہے ۔ آپ جو بھی خواب دیکھتے ہیں،اس پر بیٹھ ہی نہیں جانا،آپ جو کام کر رہے ہیں کرتے رہیں، بس خواب سے متعلق positive thoughts (مثبت سوچ) رکھنی ہیں۔منفی خیالات ہماری زندگی پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں جبکہ مثبت خیالات معجزانہ تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔
Law of attraction (خیالات کی طاقت)کو ایک اور مثال سے سمجھتے ہیں جب آپ کسی restaurants میں جاتے ہیں تو وہا ں آپ کھانے کا آرڈر کرتے ہیں جیسے کے ملائی کڑاہی ، روغنی نان ، چپاتی وغیرہ لے آﺅ، اور جس کسی رشتے دار دوست کے آئے ہوتے ہیں گپ شپ میں مگن ہو جاتے ہیں ۔ آپ یہ نہیں سوچتے کہ کہ کڑاہی کیسے بنے گی ، ملائی کہاں سے کون سی لیں گے۔یہ سب ذمہ داری restaurantsمینجمنٹ کی ہے ۔ اسی طرح Law of attraction (خیالات کی طاقت) کو صر ف آرڈر کرنا ہے۔ آپ کو کیا چاہئے پیسہ ، اچھی صحت ، جاب یا کاروباروغیرہ اس کا آرڈر کریں اور اس کے بارے میں (مثبت سوچ) positive thoughtsرکھیں ۔ Law of attraction (خیالات کی طاقت)آپ کے خواب کو پورا کرے گا۔آپ مثبت سوچیں گے تو آپکی زندگی بھی مثبت ہونا شروع ہوجائے گی۔ سوچ حقیقت کا روپ دھارتی ہے۔
Law of attraction (خیالات کی طاقت)ایک restaurants ہے یہاں آپ کو صرف آرڈر کرنا ہے اور آپ سب پاسکتے ہیں ۔، پیسہ، کامیابی،خوشی،رشتے ، اچھی صحت وغیرہ ۔ہمارا جسم ہمارے خیالات کا نتیجہ ہے۔ہم وہی کچھ ہیں جس کے بارے میں ہم سوچتے ہیں۔ انسان خیالات کی طاقت سے زندگی میں ہر چیز کو اپنی طرف متوجہ کرسکتا ہے یا حاصل کر سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

افرمیشن اور اسکے چند فوائد درج ذیل ہیں

بدھ 11 مئی 2022
کراچی، فریئر روڈ

افرمیشن کیا ہے

افرمیشن کو میں ایک مثال کے ذریعے سمجھا دیتا ہوں، کیا آپ میں سے کسی نے کبھی یہ بات سنی ہے کہ بھائی تم سے یہ کام نہیں ہو سکتا اور تھوڑے عرصہ میں ہی یہ بات محسوس بھی کی ہو کہ واقعی وہ کام آپ کر نہیں پا رہے.
یا پھر کسی کام کے لیئے لوگوں نے یہ کہا ہو کہ ارے بھائی تم یہ کام کر لو گے اور تھوڑے عرصہ میں وہ کام آپ نے سر انجام دے دیا ہو؟
جیسے ہم یہ بات بار بار خود کو یاد دلایا کریں کہ ہم ترقی کر رہے ہیں تو ہم ترقی بھی کرنے لگتے ہیں.
جیسے ہم کبھی بری صحبت میں بیٹھتے ہیں تو ان جیسے ہو جاتے ہیں اور اچھے لوگوں میں بیٹھتے ہیں تو اچھے ہو جاتے ہیں ایسے ہی افرمیشنز ہیں.

ہمارے دماغ میں 2 حصے ہوتے ہیں

ایک (کونشئس مائینڈ ) اور ایک (سب کونشیئس مائینڈ ) ہمارے دماغ کا صرف 10% حصہ کونشئیس مائینڈ ہوتا ہے اور باقی 90% سب کونشئیس مائینڈ ہوتا ہے .
ہمارا سب کونشئیس مائینڈ ہمارے دماغ کا سب سے پاور فل حصہ ہوتا ہے .
ہم اپنے سب کونشیئس مائینڈ سے اپنی لائف کو کافی بہتر بنا سکتے ہیں .
جیسے کہ ہم اپنی آواز ریکارڈ کریں جس میں بولیں کہ میں امیر ہوں صحت مند ہوں یا میں بہت خوش ہوں وغیرہ وغیرہ، اور اس وائیس کو بار بار سننے سے ہماری زندگی میں اس ہی طرح تبدیلی آنا شروع ہو جائیگی کسی بھی بات کو بار بار سننے اور بولنے سے اس بات کو ہمارے سب کونشئیس مائینڈ کو اس بات پر یقین ہو جاتا ہے ،کہ یہ سچ ہے اور پھر ہمارا سب کونشئیس مائینڈ اس ہی طرح ہمیں سوچ دیتا ہے جس سے ہم اس افرمیشن پر پورے اترنے کی محنت میں لگ جاتے ہیں .
نوٹ :
افرمیشنز سنتے وقت اپنی لائف میں ویسے ہی خیال لانا ہے کہ میں امیر ہوں یا میں صحتمند ہوں یا میں خوش ہوں. افرمیشن سنتے وقت منفی خیالات سے افرمیشنز کا اثر ذائل ہو سکتا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں