SBCAکے اصل اختیارات آغا مقصود عباس، منظور کاکا اور یونس میمن کے پاس موجود،میرے پاس کسی قسم کے اختیارات نہیں،ڈائریکٹر لیاقت آباد عبدالرحمن بھٹی کی دہائیاں

SBCAکے اصل اختیارات آغا مقصود عباس، منظور کاکا اور یونس میمن کے پاس موجود،میرے پاس کسی قسم کے اختیارات نہیں،ڈائریکٹر لیاقت آباد عبدالرحمن بھٹی کی دہائیاں

123karachi.com
پیر22مارچ2021
کراچی ، فریئر روڈ
ڈائریکٹر لیاقت آباد ٹاﺅن عبدالرحمن بھٹی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک ڈمی ڈائریکٹر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اور ان کے پاس زیرو اختیارات ہیں انہیں DGآفس سے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ گھر بیٹھیں یا آفس آئیں ان کی مرضی ہے۔ مگر وہ ٹاﺅن کے کسی بھی معاملات میں مداخلت کرنے کے اہل نہیں ہیں ۔
معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے آغا مقصود عباس کو SBCAکا اصل سربراہ مقرر کر رکھا ہے۔ اور آغا مقصود عباس کے اشاروں پر SBCAکے افسران و اہلکار کام کر نے کے پابند ہیں۔ آغامقصود عباس نے کینیڈا میں بیٹھے منظور عبدالقادر کاکا اور یونس میمن کو ساتھ ملا کر SBCAکی اصل سربراہی سنبھالی ہوئی ہے۔ مختلف ٹاﺅن معطل افسران کو ٹھیکوں پر دے دیئے گئے ہیں۔ لیاقت آباد ٹاﺅن ضیاءالرحمن عرف کالا اور کاشف جمیل عرف کاشف للّو کو ٹھیکے پر دے دیا گیا ہے۔ ضیاءلیاقت آباد کے معاملات دیکھتا ہے، جبکہ کاشف ناظم آباد کے معاملات کا نگران بنایا گیا ہے۔
گذشتہ دنوں ضیاءکی تصاویر اور وڈیو لیاقت آباد 5نمبر میں جاری انہدامی کاروائی کے دوران منظر عام پر آنے کے بعد ضیاءاب خود لیاقت آباد میں نظر نہیں آتا مگر اس نے اپنے انتہائی قریبی رشتہ دار کامران مرزا کو لیاقت آباد کے تمام بلڈروں سے مل کے بھتہ وصولی کا ٹاسک دے رکھا ہے۔ کامران مرزا جو کہ خود لیاقت آباد سی ایریا کا رہائشی ہے، دن رات لیاقت آباد کے بلڈروں اور ان کے ایجنٹوں سے میل ملاقات کرتا نظر آتا ہے۔ کامران کامل کے پلاٹ نمبر 9/3، 188قاسم آباد اور 7/11پر بھی کامران مرزا نے لاکھوں کا پیکیج لے کر اسے یقین دہانی کروا رکھی ہے ،کہ چاہے کچھ ہو جائے SBCAسے انکی غیر قانونی عمارتوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی۔
اسی طرح عبید کی غیر قانونی عمارتوں 11/6 اور 36/9بی ایریا کا ٹھیکہ بھی کامران مرزا نے لے رکھا ہے۔ جبکہ عرفان چڈی کی غیر قانونی عمارتوں پلاٹ نمبرز R-747اورR-670پر بھی کامران مرزا نے ٹھیکہ لے رکھا ہے۔دوسری جانب شکیل مکرانی کی بھی درجنوں غیر قانونی 7منزلہ عمارتوں کو بھی با حفاظت تکمیل تک پہنچانے کا ٹھیکہ بھی ضیاءنے کامران مرزا کے ذریعے لے رکھا ہے۔ ‎
واضح رہے کہ شکیل مکرانی، کامران کامل اور ان سے منسلکہ دیگر افراد کا انٹرویو گذشتہ دنوں ایک تحقیقاتی ادارہ لے چکا ہے۔ جس میں انھوں نے اپنے سرپرستوں کے نام اور تمام تفصیلات تحقیقاتی ادارے کو ریکارڈ کروا دی ہیں۔
جسکی باقائدہ آڈیو، ویڈیو ریکارڈنگ تحقیقاتی ادارے کے پاس موجود ہے مذکورہ انٹرویو کے دوران تحقیقاتی ادارے نے ان کے فنگر پرنٹس بھی حاصل کر لیئےتھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں