لیاقت آباد پلاٹ نمبر 7/11پر بنی آٹھ منزلہ عمارت، ناقص تعمیرات کے سبب زمین میں دھسنا شروع ہوگئی،کامران کامل مذکورہ بلڈنگ سے کہیں اور منتقل ہونے کو تیار

لیاقت آباد پلاٹ نمبر 7/11پر بنی آٹھ منزلہ عمارت، ناقص تعمیرات کے سبب زمین میں دھسنا شروع ہوگئی،کامران کامل مذکورہ بلڈنگ سے کہیں اور منتقل ہونے کو تیار

دورانیہ مطالعہ : 02منٹ
پیر 15مارچ 2021
کراچی ، فریئر روڈ (سن رائز رپورٹ)
لیاقت آباد ٹاﺅن کے ڈائریکٹر عبدالرحمن بھٹی کی سرپرستی میں سینکڑوںغیر قانونی عمارتیں بنا اسٹرکچر اپرول کے بنائی جا رہی ہیں، جو کہ کسی بھی وقت منہدم ہو کر جان و مال کے نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔بلڈر آصف میمن 7/11 پر آٹھواں فلور مکمل کرنے میں مصروف ہے۔حالانکہ مذکورہ بلڈنگ کے نچلے فلورز کے کئی حصے اکھڑ اکھڑ کر پڑوسیوں کے مکانات پر گر رہے ہیں ۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ بلڈنگ انتہائی ناقص اور بوسیدہ ہو چکی ہے، جبکہ یہ بلڈنگ ابھی ایک سال قبل ہی تعمیر کی گئی ہے۔مذکورہ بلڈنگ میں رہائش پذیر کامران کامل نے سن رائز کو بتایا کہ وہ خود آٹھواں فلور ڈالنے کے سخت مخالف ہے، کیونکہ بلڈنگ دن بہ دن کمزور سے کمزور ہوتی جا رہی ہے اور وہ اپنا فلیٹ فروخت کر کے جلد از جلد یہاں سے روانہ ہونا چاہتے ہیں، کیونکہ انکو خطرہ ہے کہ مذکورہ بلڈنگ کسی بھی وقت نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔اسکے فلیٹ کی آفر26لاکھ لگ چکی ہے، مگر وہ 28لاکھ کی ڈیمانڈکر رہا ہے، جیسے ہی 28لاکھ کی آفر آگئی تو وہ فلیٹ فروخت کر کے یہاں سے نکل جائیگا۔
یاد رہے کہ لیاقت آباد بلاک 9میں پلاٹ نمبر 9/3پر چائنا کٹنگ کر کے 7منزلہ فلیٹ اور متعدد دوکانیں بنانے کا ٹھیکہ بلڈر منّا قریشی نے کامران کامل کو ہی دے رکھا ہے۔مذکورہ ٹھیکہ 1کروڑ26لاکھ میں بلڈر منّا قریشی نے کامران کامل کو دیا ہے۔ کامران کی ذمہ داری لگائی گئی ہے کہ وہ مذکورہ رقم کے بدلے بلڈر کو تیار عمارت بنا کر دے گا،مذکورہ رقم میں ہی میڈیا اور SBCAکا پیکج بھی کامران کو دے دیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں لیاقت آباد 5/807پر چھ غیر قانونی منزلوں پر مشتمل عمارت تعمیر کر دی گئی ہے،جبکہ اسی کے نزدیک 5/907پر بھی بلڈر سمیر نے بھی 6منزلہ غیر قانونی عمارت تعمیر کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں