لیاقت آباد ہر گلی محلے میں عارضی شادی ہال، بچت بازار قائم ہونے سے لاکھوں شہری محبوس، ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی اور علاقہ اسسٹنٹ کمشنر کے افسران ہزاروں روپےلیکر گلیوں کو شادی ہالوں میں تبدیل کر دیتے ہیں

لیاقت آباد ہر گلی محلے میں عارضی شادی ہال، بچت بازار قائم ہونے سے لاکھوں شہری محبوس، ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی اور علاقہ اسسٹنٹ کمشنر دفترکے افسران ہزاروں روپےلیکر گلیوں کو شادی ہالوں میں تبدیل کرنے میں ملوث

123karachi.com
ہفتہ19دسمبر2020
لیاقت آباد میں ضلع وسطی انتظامیہ اور پولیس کے تعاون سے رہائشی علاقوں کی گلیوں اور سڑکوں پر تجاوزات مافیا، بچت بازاروں اور غیر قانونی عارضی شادی ہالوں کی بھرمار ہونے سے شہری محبوس ہو گئے۔ لیاقت آباد کی ہر گلی میں آئے دن کوئی نہ کوئی عارضی شادی ہال کی طرز پر ٹینٹ لگا کر گلیوں کو مکمل طور پر بند کر دیتا ہے جسکے باعث اس گلی میں رہائش پذیر سینکڑوں افراد محبوس ہو جاتے ہیں۔ علاقہ SHOلیاقت حیات نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ACلیاقت آباد زین ہی اس سلسلے میں کاروائی کر سکتے ہیں۔

لیاقت آباد کے زرائع کے مطابق DCسینٹرل اور ACلیاقت آباد آفس کے متعلقہ حکام علاقے میں شامیانے لگانے کے عوض ہزاروں روپے لیتے ہیں جسکے بعد متعلقہ افراد لیاقت آباد کی جس گلی میں چاہے شامیانے لگا کر عارضی شادی ہال بنا دیتے ہیں۔جبکہ بی ون ایریا لیاقت آباد گورنمنٹ ظہور اسکول، محمودہ نسواں اسکول کے الٹے ہاتھ کی طرف موجود روڈ پر تو اس طرح کے شامیانے مستقل بنیادوں پر لگا کر گلیوں کے مخصوص حصے کو تقریباً ہر ہفتے کی رات شادی ہال بنا دیا جاتا ہے اور رات کو 3-4بجے تک فنکشن کیئے جاتے ہیں۔جسکے باعث گلیوں میں رہنے والے افراد محبوس و قید ہو کر رہ جاتے ہیں۔ضعیف افراد، بیمار افراد، بچے اور خواتین اپنے گھروں میں آمدورفت نہیں کر پاتے۔بی ایریا میں پولیس اور ACحکام کے تعاون سے علاقے میں بچت بازاروں کو بھی گلیوں اور سڑکوں پر لگایا جارہا ہے۔اسٹوڈنٹ گراﺅنڈ پر بھی شادی ہال بنا دیا گیا ہے۔ مذکورہ تمام سرگرمیاں دپٹی کمشنر ضلع وسطی اور علاقہ پولیس کی ملی بھگت سے جاری ہیں۔لیاقت آباد میں تقریبا ہر دوسری گلی میں ویک اینڈ کے موقع پر ہر ہفتے کی رات شامیانے لگا کر علاقے کو عملا محبوس کر دیا جاتا ہے.علاقہ پولیس حصہ وصول کر کے خاموشی سے چلی جاتی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں