افسران کو اعزازیہ دینے کی ہدایت حکومت سندھ نے جاری کی تھی، میں نے اعزازیہ دینے کے حکم کو ریٹائرمنٹ سے قبل ہی 6 نومبر کوتحریری طور پرمنسوخ کر دیا تھا: آشکار داور

افسران کو اعزازیہ دینے کی ہدایت حکومت سندھ نے جاری کی تھی، میں نے اعزازیہ دینے کے حکم کو ریٹائرمنٹ سے قبل ہی 6 نومبر کوتحریری طور پر منسوخ کر دیا تھا: آشکار داور
رپورٹ:123karachi.com
جمعہ13نومبر2020
کراچی ،فریئر روڈ
ایس بی سی اے کے 27افسران کو تقریباً94لاکھ اعزازیہ دینے کی ہدایت حکومت سندھ کی جانب سے ڈی جی آشکار داور کو کی گئی تھی۔اس ضمن میں123karachi.comسے گفتگو کر تے ہوئے ڈی جی آشکار داور نے بتایا کہ انہیں حکومت سندھ نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کہا تھا کہ ون ونڈو اور دیگر محکمہ جات میں کارکردگی کے حامل افسران کی حوصلہ افزائی کیلئے اقدامات لیئے جائیں۔ جس پر انہوں نے چند افسران کو اعزازیہ دینے کے احکامات تحریری طور پر جاری کیئے تھے۔چند افسران کے نام اعزازیہ کی لسٹ میں دیکھ کر ایس بی سی اے کے شعبہ اکاﺅنٹس نے ڈی جی کی ریٹائرمنٹ کے بقایاجات اس وقت تک نہ دینے کی دھمکی دی جب تک اکاﺅنٹس کے افسران کے نام بھی اعزازیہ کی لسٹ میں شامل نہیں کیئے جاتے۔SBCAکا شعبہ اکاﺅنٹس اتنا خود سر ہو گیا کہ اس نے حاضر سروس DGکی ریٹائرمنٹ کے بقایاجات کے بلز بھی اس وقت تک کلیئر نہ کرنے کا اقدام کیا جب تک شعبہ اکاﺅنٹس کے افسران کے نام بھی لسٹ میں شامل نہیں کیئے جاتے۔اسی طرح چند افسران کو اعزازیہ دینے کی لسٹ میں دیگر شعبہ جات کے افسران نے بھی اپنے نام دباﺅ ڈال کر شامل کروالیئے .ڈی جی آشکار داور نے اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک دن قبل ہی اعزازیہ دینے کے مذکورہ حکم کو منسوخ کرنے کے احکامات تحریری طور پر جاری کر دیئے تھے۔ڈی جی نے مذکورہ احکامات 6 نومبر کو جاری کیئے، مگر افسران نے چالاکی کر کے 6نومبر کی سپہر ہی اعزازیہ کی تمام رقوم اپنے اکاﺅنٹس میں منتقل کروالی۔مذکورہ صورتحال کے باعث ڈی جی آشکار داور نے خود کو ملنے والے تقریباً 4لاکھ روپے کے اعزازیے کے چیک کو واپس SBCA کے خزانے میں جمع کروادیا۔ جبکہ انکی پیروی کرتے ہوئے شعبہ اکاﺅنٹس کے عبدالحفیظ اور دیگر افسران نے بھی اعزازیے کی رقم کے چیک واپس کر دئیے۔واضح رہے کہ گذشتہ سال DGآشکار داور نہیں تھے تو کئی افسران کو تین تا چھ ماہ کے مساوی تنخواہیں اضافی طور پر دی گئیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں